 | | | گوہر ایوب خان کی کتاب کو آکسفرڈ پاکستان نے شائع کیا ہے |
گوہر ایوب خان کی کتاب Glimpses into the corridors of Power ایک ایسے شخص کا تاثر دیتی ہے جس کے ہمراہ آپ کسی باغ میں ٹہل رہے ہوں اور وہ آپ کو اپنے تجربات و واقعات سے سرسری طور پر آگاہ کر رہا ہو۔ کبھی وہ سیاست پر آجاتا ہے تو کبھی ذاتی واقعات پر تو کبھی لطائف پر تو کبھی دوسروں کی خاکہ آرائی پر اتر آتا ہے۔ ان میں سے بہت سے واقعات تصدیق اور تحقیق کا تقاضا کرتےہیں اور سیاسی تنازعات و سیاستدانوں سے گہراا تعلق رکھتے ہیں۔ کھانے کا بل ایک جگہ گوہر ایوب لکھتے ہیں کہ والد کے صدر بننے کے بعد جب بھی میں اور میری بیوی زیب ایوانِ صدر جا کر انکے ساتھ کھانا کھاتے تو ہم دونوں کو اسکا بل پیش کردیا جاتا۔اگر صدر کمپٹرولر آفس سے کوئی شے منگواتے چاہے وہ سافٹ ڈرنکس ہی کیوں نہ ہوں تو اسکا بل صدر کو پیش کیا جاتا۔امریکی ناراضگی کا خوف یا یہ واقعہ کہ ’والد صاحب چراٹ ( صوبہ سرحد) میں فوجی کمانڈوز ایس ایس جی کے دستے کی تشکیل و تربیت کرنا چاہتے تھے ۔وہ ایک جرمن کمانڈو آفیسر کرنل اوٹو سکورزینی سے بہت متاثر تھے جس نے نہایت دلیری کے ساتھ ایک پہاڑی قلعے میں قید اطالوی آمر مسولینی کو ایک ہلکے طیارے میں نکالا تھا اور برلن میں ہٹلر کے روبرو کھڑا کردیا تھا۔والد نے پتہ چلایا کہ کرنل سکورزینی سپین میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسے ایس ایس جی کی تربیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ لیکن پھر والد کو احساس ہوگیا کہ شاید امریکیوں کو یہ بات پسند نہ آئے۔ چنانچہ لیفٹیننٹ کرنل ابوبکر مٹھا کو ایس ایس جی کی تربیتی ذمہ داری دے دی گئی۔‘ رن آف کچھ اور فضائیہ یا یہ بات کہ ’اپریل انیس سو پینسٹھ میں رن آف کچھ کے معرکے کے دوران پاک فضائیہ نے بری فوج کو فضائی مدد فراہم نہیں کی۔فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل اصغر خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کو فون کیا کہ اس معرکے سے دونوں ملکوں کی فضائیہ کو باہر رہنا چاہیے۔اس واقعے کے بعد اصغر خان کو پی آئی اے کا سربراہ بنادیا گیا اور انکی جگہ فضائیہ کی کمان نور خان کے حوالے کردی گئی۔‘ ایف ایسو چار اور سائیکل مکینک یا ایف ایک سو چار طیارے سے متعلق یہ بات کہ ’انیس سو پینسٹھ کی لڑائی میں رات کو حملے کی صلاحیت رکھنے والے بھارتی کینبرا طیاروں کا تعاقب کرنے کے لیے پاک فضائیہ نے امریکی ساختہ ایف ایک سو چار طیارے کا بخوبی استعمال کیا۔لیکن ایف ایک سو چار کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ اسکی اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت ایک میل سے زیادہ نہ تھی۔جو نہایت ناکافی تھی۔ کراچی میں بائیسکل مرمت کرنے والے ایک مستری کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے پیشکش کی کہ وہ مدد کرسکتا ہے۔اس نے کچھ عرصے تک اس کام کا جائزہ لیا اور پھر اس نے ان طیاروں کی رات میں دیکھنے کی صلاحیت میں واقعی اچھا خاصا اضافہ کر ڈالا۔‘
 | جنرل کری اپا کا بیٹا  جب ایک بھارتی ہنٹر مارگرایا گیا تو اسکا زخمی پائلٹ ستائیس سالہ فلائٹ لیفٹیننٹ کے سی کری اپا بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل کری اپا کا بیٹا نکلا۔ جنرل کری اپا اور میرے والد کی اچھی دوستی تھی۔ چنانچہ چار ماہ بعد اسے بھارت بھیج دیا گیا  گوہر ایوب |
ملکوں کی دشمنی جنرلوں کی دوستی لڑائی کے دوران جب ایک بھارتی ہنٹر مارگرایا گیا تو اسکا زخمی پائلٹ ستائیس سالہ فلائٹ لیفٹیننٹ کے سی کری اپا بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل کری اپا کا بیٹا نکلا۔ جنرل کری اپا اور میرے والد کی اچھی دوستی تھی۔چنانچہ میں، والدہ اور بھائی اختر سی ایم ایچ پنڈی میں نوجوان پائلٹ کی عیادت کو گئے اور اسکے والد کو اسکی خیریت کی اطلاع دی۔ چار ماہ بعد اسے بھارت بھیج دیا گیا۔ممبئی پر بمباری جنگ کے آ خری دنوں میں منصوبہ بنایا گیا کہ مال بردار سی ون تھرٹی طیاروں اور بی ستاون طیاروں کے ذریعے ہزار ہزار پونڈ کے بم بمبئی پر گرائے جائیس۔ تئیس ستمبر کو یہ کارروائی کی جانی تھی لیکن اس سے پہلے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پٹائی انیس سو اکہتر کے اوائل کی بات ہے جب کراچی کے ایک مشہور ہوٹل ’لا گورمے‘ میں زلفی ( ذوالفقار علی بھٹو) اپنے ایک دوست کے ہمراہ بیٹھے پی رہے تھے اور بیلے رقص سے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔اس دوران لیفٹیننٹ کرنل شمس الزماں داخل ہوئے اور زلفی کے برابر والی میز پر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر میں شمس اور زلفی نے بیلے ڈانسر پر تبصرے اور پھر ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنی شروع کردیں۔ زلفی نے جاتے جاتے شمس سے کہا کہ مجھے اقتدار میں آنے دو پھر تمھیں دیکھ لوں گا۔شمس کا قد اگرچہ چھوٹا تھا لیکن اس نے غالباً اچھی خاصی پی ہوئی تھی اور ویسے بھی غصے کا تیز تھا ۔اس نے زلفی سے کہا کہ اتنا انتظار کیوں کرتے ہو مجھ سے ابھی ابھی نمٹ لو۔ یہ کہتے ہوئے شمس نے زلفی کے جبڑے پر مکہ جڑ دیا۔ زلفی فرش پر گرگیا اور جب اٹھا تو غصے سے کانپتے ہوئے کہا کہ اب تو میں یقیناً تمہیں اقتدار میں آ کر نہیں چھوڑوں گا۔ اس پر شمس نے دو گھونسے اور جڑ دیے اور زلفی دوبارہ گر پڑا۔ جس جس نے بھی یہ منظر دیکھا وہ سکتے میں آ گیا۔ زلفی اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا چلا گیا اور شمس بیٹھا رہا۔شمس بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی فوج میں برقرار رہا۔ وزیراعظم ہاؤس کی کراکری، تلوار کا نشان بھٹو کا خیال تھا کہ وہ کم ازکم بیس برس ضرور وزیرِاعظم رہے گا۔اس نے وزیرِاعظم ہاؤس کے لیے جو نئے برتن اور کٹلری منگوائی ان سب پر وزیرِاعظم کا سرکاری نشان ثبت کروانے کے بجائے تلوار کا نشان ثبت کروایا۔ چنانچہ بھٹو کی معزولی کے بعد ساری کراکری سٹور میں جمع کردی گئی۔  | وزیرِاعظم کی بجائے تلوار کا نشان  بھٹو کا خیال تھا کہ وہ کم ازکم بیس برس ضرور وزیرِاعظم رہے گا۔اس نے وزیرِاعظم ہاؤس کے لیے جو نئے برتن اور کٹلری منگوائی ان سب پر وزیرِاعظم کا سرکاری نشان ثبت کروانے کے بجائے تلوار کا نشان ثبت کروایا  گوہر ایوب |
ایوب خان کے انتقال کی خبر بیس ستمبر انیس سو چوہتر کو جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو سب سے پہلی خبر آل انڈیا ریڈیو نے نشر کی۔ جب کہ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان نے خاصی دیر بعد والد صاحب کا نام لیے بغیر یہ خبر نشر کی کہ پاکستان کے ایک سابق صدر کا انتقال ہوگیا ہے۔الہی بخش سومرو، محمد خان جونیجو جب انیس سو پچاسی کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے ارکان کی حلف برداری ہونا تھی تو اس سے ایک رات پہلے صدر ضیا الحق نے الہی بخش سومرو سے کہا کہ وہ فی الحال میڈیا سے دور رہیں کیونکہ کل بطور وزیرِاعظم انکے نام کا اعلان ہونے والا ہے۔ صدر کی خواہش تھی کہ یہ نام خفیہ رہے تا کہ دیگر امیدوار ان پر دباؤ نہ بڑھا سکیں۔اگلی صبح پارلیمنٹ کی گیلریاں بھری ہوئی تھیں۔الہی بخش سومرو کے اردگرد ارکانِ پارلیمان کا جمگھٹا تھا جبکہ محمد خان جونیجو پوڈیم کے قریب صرف ایک ایم این اے اسلام الدین شیخ کے ساتھ کھڑے تھے۔ میں ٹہلتا ٹہلتا جونیجو صاحب کے پاس پہنچا۔ انہوں نے پوچھا گوہر صاحب کیا ہورہا ہے۔ میں نے کہا سائیں آپ خود بھی دیکھ رہے ہیں۔ سومرو کو نامزد کرنے کی خبریں ہیں۔ اس پر جونیجو صاحب نے پوچھا کیا ابھی بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا اسلام الدین شیخ بھی جونیجو کے پاس سے ہٹ کر سومرو والے جمگھٹے کی طرف چل دیئے۔ میں نے جونیجو صاحب سے کہا کہ حلف بردادی کے بعد آپ کہیں نہیں جایئے گا۔ ہمیں اپنی کوشش ترک نہیں کرنی چاہیے۔ حلف کے بعد ہم دونوں مسلم لیگ کے صدر پیرپگارا کے پاس پہنچے۔ جب پیر پگارا کو بتایا گیا کہ سومرو کو نامزد کیا جا رہا ہے تو پیر پگارا نے فوراً صدر کو پیغام بھیجا کہ بطور مسلم لیگ کے صدر انہیں یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔ چنانچہ ضیاالحق کو بادلِ نخواستہ عین وقت پر فیصلہ بدلنا پڑا اور پھر سومرو کو مبارکبادیں دینے والوں نے جونیجو کا گھیراؤ کرلیا۔ صرف میں ہی ایک بدمعاش جب اٹھائیس مئی انیس سو اٹھاسی کو جونیجو حکومت ڈسمس کردی گئی تو صدر ضیا الحق نے جونیجو کو ڈنر پر مدعو کیا اور بتایا کہ انکی کابینہ کے چند وزرا کو نئی کابینہ میں بھی لیا جائے گا۔اس پر جونیجو نے کہا تو کیا کابینہ میں صرف میں ہی ایک بدمعاش تھا۔اس پر ضیا الحق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ اکتوبر انیس سو نوے کے انتخابات کے بعد جب میں قومی اسمبلی کا سپیکر بنا تو میں نے نواز شریف سے کہا کہ میں آپ سے عمر میں بڑا ہوں اور اپنے والد کے زمانے سے سیاسی گرم و سرد دیکھتا آرہا ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ کامیاب رہنا چاہتے ہیں تو صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ سے بہتر تعلقات رکھیں اور بھارت کے خلاف کبھی اعلانِ جنگ نہ کریں۔ اس پر نواز شریف نے میری کلائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ بڑی اچھی گھڑی باندھی ہوئی ہے۔ نصرت بھٹو کی خواہش دسمبر انیس سو نوے میں ایک پارلیمانی وفد میری سربراہی میں آسٹریلیا گیا جس میں بیگم نصرت بھٹو بھی شامل تھیں۔دورے کے آخر میں سڈنی ہاربر میں لنچ کے دوران میں نے بیگم صاحبہ سے پوچھا کہ آنے والے دنوں کے تعلق سے انکی کیا خواہش ہے۔ بیگم صاحبہ نے چند لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور کہا کسی یورپی ملک میں سفارت۔ میں نے کہا سمجھ لیں ہوگیا۔ تم مذاق کر رہے ہو نا۔ نہیں میں بالکل مذاق نہیں کر رہا آپ ملک کا نام بتائیں۔ فرانس۔۔۔میں فرانس جانا چاہوں گی۔ ہوگیا۔آپ تیاری کریں۔  | | | بیگم نصرت بھٹو نے کہا: میں سفیر بن کر فرانس جانا چاہوں گی۔ |
پاکستان واپسی پر میں نے وزیرِاعظم نواز شریف سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے۔میں نے بیگم صاحبہ کو بتایا کہ منظوری مل گئی ہے۔ بیگم صاحبہ نے کہا کہ وہ کل تک حتمی جواب دیں گی۔جب میں نے اگلے دن فون کیا تو انہوں نے انکار کردیا۔ غالباً بے نظیر نے ان پر دباؤ ڈالا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ بے نظیر یہ سمجھ رہی ہو کہ میں اس طرح کی پیش کش کے ذریعے ماں بیٹی میں پھوٹ ڈلوانا چاہتا ہوں یا پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔پروٹوکول افسر، نرم تکیے میں ایک پاکستانی وفد کے ہمراہ شمالی کوریا پہنچا۔میری اہلیہ زیب بھی ہمراہ تھیں۔ زیب نے پروٹوکول آفیسر سے کہا کہ وہ ہاؤس کیپر سے نرم تکیے منگوا دے کیونکہ کمرے میں موجود تکیے خاصے سخت ہیں۔ یہ بات ہے رات نو بجے کی۔ ڈیڑھ بجے شب پروٹوکول آفیسر نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ مسکرا رہا تھا اور اسکے ہاتھوں میں دو تکیے تھے۔ میں نے پوچھا کہ اتنی دیر کیوں ہوگئی۔ پروٹوکول آفیسر نے کہا کہ اصل میں ہوٹل والوں کے پاس نہیں تھے۔ چنانچہ میں نے ایک فیکٹری کھلوا کر وہاں سے یہ دو تکیے بنوا لیے۔ یوں اتنی دیر ہوگئی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ فاروق لغاری اور بینظیر کی برطرفی چھبیس اکتوبر انیس سو چھیانوے کو نواز شریف نے مری سے اسلام آباد آتے ہوئے مجھے فون کیا کہ فوراً مری کی طرف روانہ ہوجاؤ جب ہماری گاڑیاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجائیں تو تم میری گاڑی میں آجانا۔ایک بات کرنی ہے۔میں نے ایسا ہی کیا اور ہم چھپر کے نزدیک ملے جہاں میں نواز شریف کی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ آہستہ آہستہ ڈرائیو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ صدر لغاری نے شاہد حامد کے ذریعے رابطہ کر کے مجھ سے کہا ہے کہ بے نظیر کو برطرف کیا جارہا ہے اور صدر کو ہماری حمایت چاہیے۔ نواز شریف نے اسکے بعد کہا کہ بے نظیر نے بھی یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگر ہم دونوں ہاتھ ملا لیں تو صدر کی چھٹی کی جاسکتی ہے اور دونوں جماعتیں ایک ضابطہ اخلاق پر راضی ہوجائیں تو سیاسی انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ بھی رک سکتا ہے۔ دس روز بعد فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کو برطرف کردیا۔
 | | | بے نظیر نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر ہم دونوں ہاتھ ملا لیں تو صدر کی چھٹی کی جاسکتی ہے |
اندرکمار گجرال کے والد جب میں نواز شریف کے دوسرے دور میں وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے غیر جانبدار تحریک کی کانفرنس میں شرکت کے لیے دلی گیا تو ایک استقبالیے کے دوران میں نے وزیرِ خارجہ اندرکمار گجرال کو بتایا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے دس اگست انیس سو سینتالیس کے روسٹر پر کسی گجرال صاحب کے بھی دستخط ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کون گجرال صاحب تھے۔ آئی کے گجرال کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔ وہ میرے والد تھے۔ یہ سنتے ہی میں اٹھا اور انہیں گلے لگا لیا۔ انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ نواز شریف کی دوست نوازی واشنگٹن میں رہنے والے ایک پاکستانی تاجر احمد سعید کی نواز شریف سے بہت گہری دوستی ہے۔ انہیں ہمیشہ وی وی آئی پی سٹیٹس دینے کی ہدایات تھیں۔ نواز شریف نے ضد کرکے انہیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ دلوایا اور واشنگٹن میں اعزازی قونصل جنرل بھی بنا دیا حالانکہ ایک فعال سفارتخانے کی موجودگی میں اسکی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ چیف جسٹس کو جیل بھیجنے کا خواہش جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور وزیرِاعظم کی چپقلش عروج پر پہنچ گئی تو وزیرِاعظم نے مجھے قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں آنے کو کہا۔میں پہنچا تو وہ بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔اسکے بعد وزیرِاعظم نے کہا  | چیف جسٹس کی گرفتار کی خواہش  نواز شریف نے راستے میں اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر رکھتے ہوئے کہا۔گوہر صاحب مجھے کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ میں ایک رات کے لیے چیف جسٹس کو گرفتار کرکے جیل بھیج سکوں۔میں  گوہر ایوب |
کہ میں انکے ساتھ وزیرِاعظم ہاؤس چلوں۔ راستے میں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر رکھتے ہوئے کہا۔گوہر صاحب مجھے کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ میں ایک رات کے لیے چیف جسٹس کو گرفتار کرکے جیل بھیج سکوں۔میں نے کہا کہ خدا کے واسطے ایسا سوچیں بھی نہیں ورنہ پورا نظام ہل جائے گا۔اسکے بعد نواز شریف خاموش ہوگئے۔نواز شریف کے پانچ پیارے نواز شریف کی کچن کیبنٹ پانچ افراد پر مشتمل تھی جنہیں ہم لوگ پانچ پیارے کہا کرتے تھے۔اکثر یہ ہوتا تھا کہ کسی کابینہ رکن کو اگر کوئی آئیڈیا آگے بڑھانا ہوتا تھا تو پانچ پیاروں میں سے کسی کے کان میں ڈال دیتا اور پھر یہ آئیڈیا وزیرِاعظم تک پہنچ جاتا جسے وہ کابینہ اجلاس میں اپنا آئیڈیا کہہ کر لوگوں سے اسکے بارے میں مشورہ طلب کرلیتے۔ میاں بیوی کا جھگڑا، امریکی مصالحت تیس اگست انیس سو ستانوے کو میری ملاقات افغانستان سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی لختر براہیمی سے ہوئی۔ لنچ کے بعد وزارتِ خارجہ میں چہل قدمی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی صورتحال اب یہ ہوگئی ہے کہ اگر میاں بیوی میں بھی جھگڑا ہوجاتا ہے تو انہیں مصالحت کے لیے واشنگٹن جانا پڑتا ہے۔ بھارتی ایٹمی دھماکہ اور نواز شریف جب گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اگلے روز کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔اجلاس میں چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کی جانب سے جوابی جوہری تجربے کی مخالفت کی۔ سرتاج عزیز، مشاہد حسین اور بیگم عابدہ حسین کے بھی یہی خیالات تھے۔میری رائے یہ تھی کہ اگر ہم نے بھارت کا جواب نہ دیا تو لوگ سڑکوں پر آجائیں گے۔ اگلے روز کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل جہانگیر کرامت نے کہا کہ ہماری تیاری مکمل ہے لیکن فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ طے پایا کہ اس معاملے میں حزبِ اختلاف کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ دو روز بعد پھر ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ جوہری دھماکے کے حق میں نہیں ہیں۔ جب میں نے دوبارہ جوہری تجربے کے حق میں بات کی تو وزیرِاعظم کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا انہوں نے ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا کہ میں اس بارے میں سب کی رائے سننا چاہتا ہوں۔ اسکے بعد وزیرِاعظم کے پرنسپل سکریٹری سعید مہدی اور مشیر انور زاہد تک سب ہی نے دھماکے کی وکالت کی۔ وزیرِاعظم کو جیسے ہی صورتحال کا اندازہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ میری باتوں کا غلط مطلب نہ لیا جائے ہم دھماکہ کریں گے۔ کارگل آپریشن کی بریفنگ کارگل آپریشن کے بارے میں وزیرِاعظم کو آپریشن شروع ہونے سے پہلے بریف کیا گیا۔پہلی میٹنگ میں جنرل پرویز مشرف اور انکی ٹیم کے علاوہ جنرل ریٹائرڈ مجید ملک، سرتاج عزیز، چوہدری شجاعت حسین، مشاہد حسین، راجہ  | حکومت جانے والی ہے: اللہ مالک ہے  میں نے ان سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت جانے والی ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا اللہ مالک ہے۔ آٹھ روز بعد میں نے ایک اور ملاقات میں انہیں کہا کہ حکومت کی برطرفی ناگزیر ہے  گوہر ایوب |
ظفر الحق اور سکریٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ افتخار علی خان موجود تھے۔ جبکہ دوسری میٹنگ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئی جس میں بہت کم فوجی افسر شریک تھے۔ حتی کہ فضائیہ اور نیوی کے سربراہوں کو بھی نہیں بلایا گیا دس اگست انیس سو ننانوے کو میں نے پانی و بجلی کے وزیر کے طور پر وزیرِاعظم سے ملاقات کی۔گفتگو کے آخر میں انکی آنکھوں میں سیدھا دیکھتے ہوئے میں نے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو کارگل آپریشن کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ایسی بات نہیں انہیں اس بارے میں دو دفعہ بریفنگ دی گئی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت جانے والی ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا اللہ مالک ہے۔ آٹھ روز بعد میں نے ایک اور ملاقات میں انہیں پھر کہا کہ حکومت کی برطرفی ناگزیر ہے اور انہیں وہی لوگ گرفتار کریں گے جو اس وقت ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ |