حارث خلیق اسلام آباد، پاکستان |  |
 | | | کیا اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے؟ |
ملک شہباز احمد طاہر اپنے دیگر ساتھیوں امجد نظیر اور پرویز طفیل کے ہمراہ 14 نومبر کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے ضمانت پر رہا ہو کے آیا۔ میں نے جب اس کا حال پوچھا جیل میں گزارے ہوئے شب و روز کی تفصیل جاننا چاہی تو اس نے پہلی بات جو مجھ سے کی وہ میں جوں کی توں آپ تک پہچانا چاہتا ہوں۔ ’سر جی مینوں فیض صاحب دی بڑی یاد آئی‘ (سر جی مجھے فیض صاحب کی بہت یاد آئی)۔ ملک شہباز نے فیض صاحب کو کبھی نہیں دیکھا اس کی عمر 36 برس ہے اور اگرچہ وہ شاعری سے گہراؤ رکھتا ہے اس کا ادبی گھرانے سے تعلق نہیں۔ پھر اس کے دوست، رشتہ دار، چاہنے والے، رفقاء کار، سب اس پہ جان چھڑکتے ہیں اور اس کے رہا ہونے تک چین سے نہیں بیٹھے۔ اس کے والد لاہور کے ایک ہسپتال میں تھے اور وہ ان کے لیے جیل میں بہت پریشان تھا۔ مگر آخر ایسا کیوں ہواکہ اس نے جیل سے باہر آتے ہی پہلی بات فیض صاحب کو یاد کرنے سے شروع کی۔ ہم نے اپنے کسی دوست رشتہ دار کی بات، نہ کام کاج کی، نہ کوئی سیاسی بات نہ تفریحی۔ نہ کوئی دکھ بیان کیا نہ کوئی خوشی۔ رہائی کے بعد میں پہلا شخص تھا جس سے وہ سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کے کمرے باہر آتے ہی بغل گیر ہوا اور پہلا جملہ جو اس کے منہ سے نکلا وہ یہی تھا: ’سر جی مینوں فیض صاحب دی بڑی یاد آئی۔‘ ملک شہباز چار نومبر 2007 کی سہ پہر اسلام آباد کے ہوٹل کے سامنے سے اس وقت گرفتار ہوا جب وہ ایک پرامن احتجاجی جلوس میں شامل تھا۔ اسے تھانہ سیکریٹریٹ لے جایا گیا اور وہاںں سے اڈیالہ جیل۔ کوئی پیشی، کوئی عدالت، کوئی مجسٹریٹ، کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے ملک میں دستور، قانون سب معطل ہیں۔ چنانچہ ملک شہباز جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، اس نے کوئی اخلاقی جرم بھی نہیں کیا، کسی کو گالی بھی نہیں دی، پتھر نہیں مارا۔ اگر کوئی جرم تھا تو اتنا کہ وہ بنیادی حقوق کے سلب کیے جانے، ذرائع ابلاغ پر پابندی اور عدلیہ پر قدغنوں کو مملکتِ خدا داد پاکستان کے حال اور مستقبل کے لیے اچھا نہیں سمجھتا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے بغیر کسی عدالتی کارروائی کے بند رکھا گیا اور چھ دن بعد اس تک رسائی ممکن ہوئی۔ حکام اعلیٰ اور افسرانِ بالا کی کرم نوازی سے اس کی ضمانت ممکن ہوئی۔
 |  صرف فیض صاحب کی وجہ سے جیل  ملک شہباز صرف فیض صاحب کی وجہ سے جیل گیا۔ اس جیسے زیرک اور فہیم رہنما کو کوئی عامیانہ سیاسی رہنما متاثر یا جیل جانے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ یہ شاید صرف فیض صاحب ہی کر سکتے ہیں۔  |
ملک شہباز صرف فیض صاحب کی وجہ سے جیل گیا۔ اس جیسے زیرک اور فہیم رہنما کو کوئی عامیانہ سیاسی رہنما متاثر یا جیل جانے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ یہ شاید صرف فیض صاحب ہی کر سکتے ہیں۔ جب وہ گھر سے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے کے لیے نکلا تھا تو ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ اس کی زبان پر تھا۔ جیل میں روز صبح کسی ملاقاتی یاضمانتی کے انتظار اور پھر شام اور پھر اگلی صبح کے انتظار کے درمیان اسے ’پھر کوئی آیا دلِ زار نہیں کوئی نہیں، راہ رو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا‘ بہت یاد آتی تھی۔ سلاسل کے چمک اٹھنے اور روزنِ زنداں کے بجھنے کے عمل اسے فیض صاحب کے شعر نہیں ان کا نظریہ بھی یاد دلاتے تھے۔ فیض صاحب کی وجہ سے نہ جانے کتنے اور لوگ آزار اٹھائیں گے۔ مگر فیض کے چاہنے والوں کو راہ میں کوئی اور جچتا ہہی نہیں۔ یہ ان کا قصور ہے کہ انہوں نے فیض صاحب کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے لے لیا اور منہ اٹھائے فیض صاحب کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ درد کا رشتہ ہوتا ہی ایسا ہے۔ ملک شہباز اور فیض احمد فیض الگ نہیں کیے جا سکتے۔ وہ یوں ہی ان کے پیچھے چلتا رہے گا۔ وہ تھک گیا تو شاید کوئی اور چل پڑے۔ ویسے وہ تھکے گا نہیں، کیونکہ فیض صاحب اسے تھکنے ہی نہیں دیں گے۔ دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے |