سرحد کی ’مشعل امن‘ پر ایک فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برِصغیر کی تحریک آزادی کے ایک بڑے رہنما خان عبد الغفار خان المعروف باچا خان کی زندگی اور جدوجہد پر ایک تفصیلی دستاویزی فلم بنائي گئی ہے جسکا پریمیئر آٹھ نومبر کو نیویارک میں دکھایا جائے گا۔ یہ فلم ایک کینیڈین فلم ساز خاتون نے باچا خان اور انکے عدم تشدد کے فلسفے پر مبنی جدوجہد پر اکیس برسوں کی مسلسل تحقیق کے بعد بنائی ہے۔ امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ کے مطابق، ’سرحدی گاندھی: بادشاہ خان، اے ٹارچ فار پیس‘ کے عنوان سے بنائی جانیوالی اس فلم پر کینڈین لکھاری اور فلمساز ٹی سی لوہان نے اکیس برس صرف کیے ہیں۔ یہ فلم نیویارک شہر میں انڈو امریکن فلم فیسٹول میں پیش کی جا رہی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ایک بے چین لیکن مصمم ارادے کی مالکہ ٹیری لوہان نے اس فلم کی زیادہ تر فلم بندی افغانستان، بھارت اور پاکستان کے صوبہ سرحد میں کی ہے جہاں خان عبدالغفار خان نے اپنی زیادہ تر زندگي اور جدوجہد کا وقت گزارا تھا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، فلم ساز ٹی سی لوہان اس وقت بھی فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھیں جب گيارہ ستمبر کے بعد افغانستان پر امریکی بم گرائے جا رہے تھے اور اسکے بعد جنم لینے والے خطرناک حالات میں بھی لوہان نے اپنا کام جاری رکھا۔ لاس اینجبلس سے فلم کے سامان کے دو کنستروں کو جنوبی ایشیائي ملکوں کی سرحدوں سے پار کروانے کی ایک الگ داستان ہے۔
آج کے حالات میں جب افغانستان اور پاکستان میں رہنے والے پشتونوں کو ’تشدد پسند لوگ‘ بنا کر باقی دینا میں پیش کیا جا رہا ہے تو سرحدی گاندھی کی زندگی اور پشتونوں میں ان کی عدم تشدد کی تحریک پر مبنی اس دستاویزی فلم کی نمائش سے قبل ہی میڈیا اور سنیما جانے والے کئي لوگ اس میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ فلم کا پریمیئر آٹھ نومبر کو نیویارک میں کے مہیندرا انڈو امریکن فلم فیسٹول میں ہوگا جو آرٹس شو کیس میں ہو رہا ہے۔ یہ ایک نان فکشن فلم کہی جا رہی ہے جس نے باچا خان کی زندگی اور سیاست اور انکی عدم تشدد یا خدائي خدمتگار تحریک کا تفصیلات کے ساتھ احاطہ کیا ہے۔ ’فرنٹیئر گاندھی‘ کی فلسماز کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فلم بندی کے دوران ان کا گائیڈ ایک جنگجو سردار تھا۔ انہوں نے چھ مرتبہ درہ خیبر کا دورہ کیا، افغانستان میں سرحدی گاندھی کے متعلق اس پرانے مواد یا آرکائيوز ڈھونڈ نکالے جو طالبان کے خوف سے چھپا کر رکھے گۓ تھے، کابل کی تنگ گلیوں کے مشکل شاٹ اسکیٹ بورڈ کے پہیوں سے بنی ڈالی پر کمیرہ رکھ کر لیے، جبکہ ایک مرتبہ پولیس نے کابل میں ان کے کیمرے کو بیچ سڑک پر پھینک دیا تھا۔ لیکن وہ اپنی کینیڈین شہریت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بار وہاں جاتی رہیں اور فلم کی تکمیل کیلیے جنوبی ایشیا میں اپنے وسیع رابطے استعمال کرتی رہیں۔ باسٹھ سالہ خاتون فلمساز نے کہا ہے کہ اس طرح اس کا فلم بنانے کا وہ سفر تمام ہوا جو انیس سو ستاسی میں اس وقت شروع ہوا تھا جب برکلے (کلیفورنیا) میں ان کے ایک واقف کار نے انہیں مصنف ایکتا ایشورن کی سرحدی گاندھی پر لکھی کتاب ’اسلام کا عدم تشددی سپاہی‘ پڑھنے کو دی تھی۔ فسلماز کا کہنا ہے ’جس چيز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا تھا وہ خان غفار خان کی انسانی عظمت تھی جو کہ ہر کسی میں نہیں ہوتی اور تب ہی میں نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے سرحدی گاندھی کے متعلق زیادہ جاننا ہے اور پھر اس کم معروف شخص کو ساری دنیا میں متعارف کرانا ہے۔‘ فلم میں خان عبد الغفار کے ساتھ کام کرنے والے ان کے سابق خدائي خدمتگار رضا کاروں کو بھی دکھایا گیا ہے جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان خدائي خدامتگاروں کی عمریں اب نوے کے لگ بھگ ہیں اور ایک کے پاس تو باچا خان کے زمانے کی سنبھال کر رکھی ہوئی وردی بھی تھی۔ جب بی بی بی سی نے فلم پر نیویارک میں پختونوں کی ثقافتی و سماجی تنظم خیبر سوسائٹی کے سیکرٹری اطلاعات و صحافی مجید بابر سے ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا کہ وہ فلم کے پریمیئر پر خدائي خدمتگار یا باچا خان کے سرخ پوشوں کی وردیاں پہن کر جائيں گے۔ فلم میں مشہور اداکار اوم پوری کی آواز میں خان عبد الغفار کی تصویر کے ذریعے ان (باچا خان) کا پیغام دیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں: ’میرے جیسے پختون یا مسلمان کے لیے عدم تشدد کو اپنانا کوئي تعجب کی بات نہیں جسکا (عدم تشدد کا) پرچار پیغمبر اسلام چالیس سال تک مکہ میں کرتے رہے تھے۔‘ فلم میں افغانستان کے صدر حامد کرزئي کو انکے بچپن میں باچا خان سے ان کی ملاقات کے متعلق بات کرتے دکھایا گيا ہے۔ جبکہ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کو کہتے دکھایا گيا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ وہ (باچا خان) محب وطن پاکستانی تھے۔‘ جب بھارت کے معروف صحافی اور کانگرس کے سابق ایم پی ایم جے اکبر سے فلم میں سرحدی گاندھی کے مہاتما گاندھی کے مقابلے میں گمنامی کے متعلق پوچھا گيا ہے تو انہوں نے کہا: ’عدم تشدد کی مارکیٹ مہاتما گاندھی نے اس قدر استعمال کی تھی کہ اسکے بعد دوسرے گاندھی کے استعمال کی گنجائش نہیں بچتی تھی۔ میڈیا کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ بلکہ تاریخ بھی برانڈ نام بنانے کی مشق بن جاتی ہے اور میڈیا نے وہ برانڈ مہاتما گاندھی کا بنایا تھا نہ کہ سرحدی گاندھی کا۔‘ | اسی بارے میں باچا خان کے مدرسہ سکول کا احیاء20 September, 2007 | پاکستان عدم تشدد کے فلسفے کی سوویں سالگرہ 29 January, 2007 | پاکستان ولی خان: جو سوچتے وہ کہتے26 January, 2006 | پاکستان خان عبدالولی خان انتقال کر گئے 26 January, 2006 | پاکستان جناح: بھارت کی نظرمیں 07 June, 2005 | پاکستان آزادی یا سانحہ16 December, 2004 | پاکستان ’جناح پاکستان نہیں چاہتے تھے‘30 December, 2006 | پاکستان کشمیر تاریخی موڑ پر؟11 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||