BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر تاریخی موڑ پر؟

کشمیری خواتین
’کشمیریوں کی خواہش کسی نے نہیں پوچھی‘

سفری رابطے بحال ہو چکے ہیں، کرکٹ کے دورے طے پا چکے ہیں اور اب گزشتہ ہفتے ہندوستان اور پاکستان نے دشمنی ختم کر کے کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے لئے ’تاریخی‘ کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اسے صرف تاریخ سازی کہا جا سکتا ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ تاریخ کبھی بنے گی بھی کہ نہیں۔

میں نے آج سے تیس سال قبل شملہ میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا تھا۔

اُن دونوں رہنماؤں نے نہ صرف قیدیوں کے تبادلے اور بنگلہ دیش جنگ کے دوران قبضے میں لئے گئے ایک دوسرے کے علاقے واپس کرنے کا اعلان کیا بلکہ ایک برائے نام خفیہ معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کی رو سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا جانا تھا۔

دوسرے الفاظ میں مسئلہ کشمیر کا اختتام۔

لیکن یہ ذوالفقار علی بھٹو کے لئے بہت کڑوا گھونٹ ثابت ہوا کیونکہ اس کی رو سے پاکستان کو کشمیر کی وادی سے جو کہ اس کا دِل ہے دستبردار ہونا پڑنا تھا۔

اس کے بعد بھی کئی مواقع پر مسئلہ کشمیر حل کی طرف جاتا ہوا نظر آیا۔

یہ تیسرا موقع ہے کہ اٹل بہاری واجپئی نے بحیثیت وزیر اعظم کوشش کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جائے۔

حالانکہ ابھی بھی دونوں رہنماؤں نےصرف بات چیت شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن یہ بحرحال گزشتہ سال کے حالات کے مقابل پیش رفت ہے جب دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے تھیں اور دنیا ایٹمی جنگ کا خطرہ محسوس کر رہی تھی۔

اب دونوں ممالک کے رہنماؤں نے امن کے نام پر اپنی شہرت داؤ پر لگا دی ہے۔ دونوں نے ایسی مراعات پر اتفاق کیا ہے جو معاملات آگے نہ بڑھنے کی صورت میں ڈراؤنا خواب بن جائیں گی۔

واجپئی کی جماعت بی جے پی نے ہمیشہ سے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے اور اس کو کبھی بھی متنازع قبول نہیں کیا۔

لیکن اب وزیر اعظم واجپئی نے تسلیم کیا ہے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں زیر غور ہوگا۔

اس کے جواب میں صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی صورت میں بقول ان کے دہشت گردی کی حمایت نہیں کرے گا۔

لیکن یہ کشمیر میں جاری تشدد ہی تھا جس نے ہندوستان کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ خطہ متنازعہ ہے۔

اس طرح بظاہر صدر مشرف اپنے ترکش کا سب سے اہم تیر ضائع کرنے جا رہے ہیں جو بہت سے پاکستانیوں اور فوج کے کچھ طبقات کو مشتعل کرے گا۔

اس صورتحال میں یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ صدر مشرف نے مسئلہ کے حل کی بات کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔

دونوں ہی رہنما کشمیر کے بارے میں لوگوں کے سخت موقف کی وجہ سے توقعات زیادہ نہیں بڑھانا چاہتے۔

لیکن یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر کوئی یہ مسئلہ حل کر سکتا ہے تو وہ یہ دونوں رہنما ہی ہیں جو اپنے اپنے ملک کی سب سے سخت گیر موقف رکھنےوالی قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

صدر مشرف کو خود پر قاتلانہ حملوں کے بعد اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اسلامی شدت پسند تنظیموں کو پناہ دینا کتنا خطرناک ہے۔

وزیر اعظم واجپئی جب پہلی بار اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا تھا کہ پاکستان سے دوستی ان کا تاریخی مِشن ہے۔

اسی طرح دونوں رہنماؤں کے پاس تاریخ رقم کرنے کی ذاتی وجوہات ہیں اور اس کے لئے ان پر شدید بین الاقوامی دباؤ بھی ہے۔

امن کا پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ لیکن سب سے زیادہ فائدہ کشمیریوں کا ہوگا۔

گزشتہ چودہ سال سے وہ ایک پولیس اسٹیٹ میں رہ رہے ہیں۔ انہیں ہندوستانی اہلکاروں اور اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے تشدد کا سامنا رہا ہے۔

جب میں آخری بار کشمیر گیا تھا تو مجھ سے بارہا پوچھا گیا کہ ’یہ دونوں پاکستان اور ہندوستان آخر ہمیں امن سے کیوں نہیں رہنے دیتے‘؟

میں یہاں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ کشمیری امن کے لئے کسی بھی سمجھوتے پر راضی ہو جائیں گے لیکن ابھی تک کسی نے ان کی رائے جاننے کی کوشش نہیں کی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد