عدم تشدد کے فلسفے کی سوویں سالگرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا پہلے کی نسبت زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ ہندوستان میں مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کی سوویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر حکمراں کانگریس کے زیر اہتمام دلی میں ہونے والی دو روزہ تقریب میں ملک کے علاوہ بیرونی ممالک کے سیاسی رہنما اورمجاہدین آزادی حصہ لے رہے ہیں۔ اس بین الاقوامی اجلاس میں تراسی ممالک کے سیاستداں اور رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ تقریب میں بنگلہ دیش، پاکستان، زیمبیا، پولینڈ اور فلسطین کے سیاستدان اور سرکردہ شخصیات بھی شرکت کر رہی ہیں۔ اجلاس کے پہلے دن بنگلہ دیش کے نوبل اعزاز یافتہ سماجی کارکن پروفیسر محمود یونس کے علاوہ زیمبیا کے سابق صدر کینیتھ کاؤنڈا اور فلسطین کے سابق وزیر خارجہ ناصر القدوا نے اجلاس سے خطاب کیا۔ سب ہی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ فلیسطین اور عراق ایک عرصے سے تشدد جھیل رہے ہیں لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دینا مسئلہ کا حل نہیں ہے اور ہتھیاروں پر ایک بڑی رقم خرچ کرنے کے بجائے اسے سماج کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہیے۔ اجلاس کے پہلے روز عدم تشدد کے ذریعے مزاحمت یعنی ’ستیہ گرہ‘ پر ایک فلم بھی دکھائی گئی۔ اجلاس کا افتتاح سونیا گاندھی نے کیا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ میں گاندھی جی کی ابتدائی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کے فلسفے کی ضرورت آج کی دنیا میں پہلے سے زیادہ ہے۔ سونیا گاندھی نےکہا ’تشدد سے صرف کمزور عوام کو نقصان ہوتا ہے تاہم یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ کئی بار اپنی بات پہچانے کے لیے لوگ تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن تشدد سے کسی کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے۔ گاندھی جی تشدد کا جواب تشدد سے دینے کے خلاف تھے۔‘
محترمہ گاندھی نے مزید کہا ’ہندوستان آج بھلے ہی ایک جوہری ملک ہے لیکن ہماری حکومت اس طرح کی طاقت کے استعمال سے ہر ممکن گریز کرے گی‘۔ گاندھی جی کے امن و اشتراک کے اصولوں کو یاد کرتے ہوۓ بنگلہ دیش کے پروفیسر محمد یونس کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش ایک ساتھ مل کر کمزور طبقے کی خوشحالی کے لیے کام کرسکتے ہیں۔ پروفیسر یونس نے کہا ’ہندوستان اور بنگلہ دیش امن کے ساتھ ایک ایسی دنیا کا تصور کرسکتے ہیں جہاں غریبی صرف ایک ماضی کی کہانی ہو اور جہاں سب کو برابری کا موقع ملا ہو۔ جہاں جنگ کی نہیں بلکہ امن کی بات ہو‘۔ اس موقع پر فیسطین کے سابق وزیر خارجہ ناصر القدوا کا کہنا تھا کہ فلسطین ایک عرصے سے جنگ اور شدت پسندی سے دوچار ہے اور’ ہم امید کرسکتے ہیں کہ گاندھی جی کا فلسفہ فلسطین جیسے علاقے کے حالات کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا‘۔ | اسی بارے میں کیا گاندھی کا فلسفہ آج بھی اہم ہے؟02 July, 2006 | انڈیا اندرا گاندھی کی سادہ یادگار30 October, 2004 | انڈیا ’چرچل گاندھی کو مرنےدیناچاہتےتھے‘ 01 January, 2006 | انڈیا ’منا بھائی‘نے لوگوں کو باپو یاد دلا دیا02 October, 2006 | انڈیا جیل میں گاندھی گیری19 October, 2006 | انڈیا گاندھی کی آخری سواری کی مرمت18 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||