BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 September, 2007, 17:20 GMT 22:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باچا خان کے مدرسہ سکول کا احیاء

امن کا علیحدہ مضمون نصاب میں شامل ہو گا
قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نےسرخ پوش رہنما باچاخان کی جانب سے انیس سو بیس کی دہائی کے دوران قائم کیے گئے آزاد مدرسہ سکول سسٹم کی احیاء کے لیے باچا خان ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر اہتمام صوبہ سرحد، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں درجنوں سکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے جمعرات کو ضلع چارسدہ میں قائم کیے گئے ایک سکول کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پشتونوں میں علم کی روشنی پھیلانے کی خاطر باچا خان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باچا خان سکول سسٹم کے نام سے صوبہ سرحد ، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں درجنوں سکول کھولےگی۔ ان کے مطابق اگلے ہفتےاس قسم کا دوسرا سکول پشاور کے علاقے متھرا میں کھولا جائے گا۔

باچا خان سکول
 امن سے متعلق ایک مضمون بھی نصاب کا حصہ ہے جس میں باچا خان، مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلا کے علاوہ دنیا میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات کے افکار پر مبنی ہے۔
افراسیاب خٹک

ان کے بقول ان سکولوں میں نادار بچوں اور بچیوں کو یونیفارم، کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اسفند یار ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا پروگرام ہے کہ ہر ضلع میں پانچ پرائمری اوردو سکینڈری سکولوں کے علاوہ ایک کالج کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے صدر افراسیاب خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سکولوں میں پاکستان اور برصغیر کی آزادی کے دوران پشتو میں ترتیب کردہ ’ائے زما وطنہ د لعلونو خزانے زما، کےترانے مشترکہ طور پر پیش کیے جائیں گے۔ان کے بقول پہلی جماعت سے انگریزی اور پشتو کو لازمی جبکہ اردو کو اختیاری مضمون کے طور پڑھایا جائے گا۔

افراسیاب خٹک کا مزید کہنا تھا کہ سکولوں میں آکسفورڈ ایجوکیشن سسٹم کا نصاب پڑھایا جارہا ہے جس میں امن سے متعلق ایک مضمون بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مضمون باچا خان، مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلا کے علاوہ دنیا میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات کے افکار پر مبنی ہے۔ ان کے بقول تاریخ اور اسلامیات کے مضامین میں فرقہ ورانہ اور نفرت انگیزمواد شامل نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ باچا خان نے انیس سو بائیس میں اپنے آبائی گاؤں چارسدہ سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے پشتون علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا اور بعد میں پورے صوبہ سرحد میں ان سکولوں کی تعداد ایک سو اڑتیس تک پہنچ گئی تھی تاہم قیام کے کچھ عرصے بعد انگریز وں نے پابندی لگا کر تمام سکولوں کو بند کردیا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد کسی بھی پشتون قوم پرست جماعت کاسیاست سے ہٹ کر تعلیمی میدان میں اٹھائے جانے والا یہ پہلا قدم ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ باچا خان ٹرسٹ کے زیر انتظام ہیلتھ فاونڈیشن کا قیام بھی بہت جلد عمل لایا جائے گا۔

اسی بارے میں
کہانی ایک سکول کی
08 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد