باچا خان کے مدرسہ سکول کا احیاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نےسرخ پوش رہنما باچاخان کی جانب سے انیس سو بیس کی دہائی کے دوران قائم کیے گئے آزاد مدرسہ سکول سسٹم کی احیاء کے لیے باچا خان ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر اہتمام صوبہ سرحد، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں درجنوں سکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے جمعرات کو ضلع چارسدہ میں قائم کیے گئے ایک سکول کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پشتونوں میں علم کی روشنی پھیلانے کی خاطر باچا خان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باچا خان سکول سسٹم کے نام سے صوبہ سرحد ، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے پشتون علاقوں میں درجنوں سکول کھولےگی۔ ان کے مطابق اگلے ہفتےاس قسم کا دوسرا سکول پشاور کے علاقے متھرا میں کھولا جائے گا۔
ان کے بقول ان سکولوں میں نادار بچوں اور بچیوں کو یونیفارم، کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اسفند یار ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا پروگرام ہے کہ ہر ضلع میں پانچ پرائمری اوردو سکینڈری سکولوں کے علاوہ ایک کالج کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے صدر افراسیاب خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سکولوں میں پاکستان اور برصغیر کی آزادی کے دوران پشتو میں ترتیب کردہ ’ائے زما وطنہ د لعلونو خزانے زما، کےترانے مشترکہ طور پر پیش کیے جائیں گے۔ان کے بقول پہلی جماعت سے انگریزی اور پشتو کو لازمی جبکہ اردو کو اختیاری مضمون کے طور پڑھایا جائے گا۔ افراسیاب خٹک کا مزید کہنا تھا کہ سکولوں میں آکسفورڈ ایجوکیشن سسٹم کا نصاب پڑھایا جارہا ہے جس میں امن سے متعلق ایک مضمون بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مضمون باچا خان، مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلا کے علاوہ دنیا میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات کے افکار پر مبنی ہے۔ ان کے بقول تاریخ اور اسلامیات کے مضامین میں فرقہ ورانہ اور نفرت انگیزمواد شامل نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ باچا خان نے انیس سو بائیس میں اپنے آبائی گاؤں چارسدہ سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے پشتون علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا تھا اور بعد میں پورے صوبہ سرحد میں ان سکولوں کی تعداد ایک سو اڑتیس تک پہنچ گئی تھی تاہم قیام کے کچھ عرصے بعد انگریز وں نے پابندی لگا کر تمام سکولوں کو بند کردیا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد کسی بھی پشتون قوم پرست جماعت کاسیاست سے ہٹ کر تعلیمی میدان میں اٹھائے جانے والا یہ پہلا قدم ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ باچا خان ٹرسٹ کے زیر انتظام ہیلتھ فاونڈیشن کا قیام بھی بہت جلد عمل لایا جائے گا۔ | اسی بارے میں کہانی ایک سکول کی08 December, 2006 | پاکستان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سکول21 January, 2007 | پاکستان ٹریکٹر کی زد میں آ کر 9 طالبعلم ہلاک05 April, 2007 | پاکستان مردان: لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ11 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: سکول ایف سی کے حوالے 24 May, 2007 | پاکستان ٹانک:کہاں غائب ہو رہے ہیں طلباء؟13 June, 2007 | پاکستان سکول یرغمالی بنائے جانے کا خطرہ13 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||