BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سکول

طالبان کہتے ہیں کہ افغانستان اور امریکا ان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے
طالبان نے افغانستان میں اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں اس سال اپریل تک لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کے قیام کے لیے ایک کمیشن قائم کیا ہے اور اس مقصد کے لئے ایک ملین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے سٹیلائٹ فون پر بی بی سی کو بتا یا کہ طالبان کی رہبر شوری نے یہ اقدام افغان حکومت اور امریکا کے اس پروپیگنڈے کے خلاف اٹھایا ہے کہ طالبان افغان بچوں کو تعلیم سے محروم کررہے ہیں۔

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کمیشن کی سر براہی کون کر رہا ہےاور یہ کتنے ارکان پر مشتمل ہے۔ البتہ انکا کہنا تھا کہ کمیشن اس سلسلے میں تمام انتظامات کر ےگا۔

قاری یوسف کے بقول ’کمیشن کا کام نظامِ تعلیم کو مرتب کرنا اور اسے عملی جامہ پہنانا ہے۔ کمیشن اساتذہ کی تقرری اور انہیں تنخواہیں دینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنے بچے سکول بھیج دیں۔‘

نصاب تعلیم کے بارے میں قاری یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب منسوخ کیا جائےگا اور اسکی جگہ طالبان اور مجاہدین دور کے نصاب کو رائج کیا جائے گا۔

انکا مزید کہنا تھا ’امریکہ کے زیر تسلط افغان حکومت نے ایک ایسا نصاب بنایا ہے جس میں اسلامی اور افغانی روایات کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ نصاب میں جہاد کو دہشت گردی اور مجاہد کو دہشت گرد بتایا جاتا ہے۔‘

طالبان ترجمان کے بقول ان کے سکولوں میں طلباء کو جغرافیہ، تاریخ فزکس، کیمسٹری اور سوشیالوجی کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔انہوں نے مزیدبتایا کہ پہلے مرحلے میں اپریل کے مہینے تک لڑکوں کے جبکہ دوسرے مرحلے میں لڑکیوں کے سکول قائم ہوں گے۔

قاری یوسف کے مطابق اس پروگرام کے لیے ایک ملین ڈالر مختص کیئے گئے ہیں۔ انکے بقول افغانستان کے اندر اور دیگر بیرونی ممالک کے مسلمان انکی مالی مدد کررہے ہیں جنکی مدد سے اس پروگرام کو عملی شکل دی جائے گی۔

واضح رہے کہ طالبان نے اپنے دور حکومت میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تھی جس کی وجہ سے انہیں کڑی عالمی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔ جنوبی افغانستان میں طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان لڑائی کی وجہ سے افغان وزارت تعلیم کے مطابق دو سو سکول بند پڑے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد