بھارت میں پاکستانی گلوکاروں پر تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا پاکستانی گلوکاروں کو ہندوستان میں گانے کے مواقع دیا جانا چاہئیے؟ اس بحث کو ایک بار پھر گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ نے زندہ کر دیا۔ نئے تنازع کی ابتداء اس وقت ہوئی جب ابھیجیت بھٹاچاریہ نے زی ٹی وی کے پروگرام ’ایک سے بڑھ کر ایک‘ میں پاکستانی گلوکار مسرت شیخ کی شرکت پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کسی پروگرام کے جج بننا نہیں چاہیں گے جس میں پاکستانی گلوکاروں کو شامل کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ابھیجیت شروع سے ہی ہندوستان میں پاکستانی گلوکاروں کی آمد سے ناخوش رہے ہیں۔اور اسی سبب انہوں نے سنہ 2003 میں پاکستانی گلوکاروں کو ہندوستان میں گانے پر پابندی کے لیے عدالت کے دروازے پر بھی دستک دی تھی۔ نئے تنازع سے متعلق زی ٹی وی کے بزنس چیف ترون مہرہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ابھیجیت نے مسرت کی شمولیت پر اعترض کیا تھا۔
ابھیجیت کی دلیل تھی کہ ہندوستانی گلوکار بھوکے مر رہے ہیں اور ایسی صورت میں پاکستانی گلوکاروں کو یہاں مواقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ بقول ابھیجیت ’یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ ہم پاکستانی گلوکاروں سے گوانے کے لیے خود پاکستان جاتے ہیں جبکہ ہمارے گلوکاروں کو پاکستان میں پروگرام کرنے کی اجازت تک نہیں ملتی۔‘ پروگرام کے میزبان اور بھوجپوری فلموں کے مشہور اداکار روی کشن کا کہنا ہے کہ ابھیجیت نے یہ بہت سطحی بات کی ہے اور انہیں اس کا بہت افسوس ہے۔ روی کشن کے مطابق فن اور فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ پاکستانی فنکار اگر اچھے ہیں تو انہیں دنیا کےکسی بھی کونے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کشن کے مطابق ہندوستان کا دل بہت بڑا ہے اور یہاں صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے فنکاروں کو مواقعے دیے جاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو بھی اپنا دامن اور دل کو وسیع کرنا چاہئے۔ فلم انڈسٹری میں ایسے بھی کئی فنکار تھے جو اس تنازعہ سے بچنا چاہتے ہیں۔گلوکارہ شریا گھوشال نے اس مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے اور وہ کرئیر کے اس سٹیج پر کسی طرح کے تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتیں۔ دوسری جانب گلوکار شان کا کہنا تھا کہ ابھیجیت دا کے خیال سے وہ کچھ حد تک متفق ہیں۔ شان کے مطابق ابھیجیت دا نے اپنے کرئیر میں بہت کچھ حاصل کر لیا اس لیے یہ بات انہوں نے اپنے لیے تو بالکل نہیں کہی ہے وہ ہندوستان کے اچھے اور نوجوان ٹیلینٹ کو اُبھرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں جو پاکستانی بے سُرے سنگرز ان سے چھین رہے ہیں۔
شان کا کہنا تھا کہ وہ غزل کے شہنشاہ مہدی حسن، غلام علی یا نصرت فتح علی خان کی بے حد عزت کرتے ہیں اور انہیں واقعی فنکار مانتے ہیں۔شان کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ ہندوستان کے فنکاروں کو پاکستان اپنے یہاں آکر پرفارم کرنے کے لیے ویزا تک نہیں دیتا ہے۔ میوزک ڈائرکٹر ساجد واجد فیم ابھیجیت کے اس ریمارکس کو ان کی کم ظرفی مانتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فنکار پر کسی بھی ملک یا سرحد کا لیبل نہیں ہوتا۔ابھیجت کی یہ بات کے ان کے یہاں گلوکار بھوکے مر رہے ہیں وہ بہت غلط ہے۔فنکار کے فن کی قدر ہوتی ہے اگر اچھا فنکار ہے تو پھر اسے ترقی کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ ہی اسے کسی ملک کی سرحد پابند کر سکتی ہے۔ ہندوستان کے کئی ٹی وی ریالٹی شوز میں پاکستانی گلوکار اور فنکار حصہ لیتے رہے ہیں اور مسرت نے اس سے قبل زی ٹی وی کے شو’سارےگاماپا‘ سنہ دو ہزار سات میں حصہ لیا تھا۔ |
اسی بارے میں ہند پاک فلمیں، فائدہ کس کا؟18 July, 2008 | فن فنکار پاکستانی فلم کی انڈیا میں نمائش 15 July, 2008 | فن فنکار پاکستان کی سب سے متنازعہ فلم14 September, 2007 | فن فنکار پاکستانی سنیما کے مستقبل پر سیمینار31 March, 2006 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار انڈو پاک فلمی صنعت کا اشتراک 07 April, 2005 | فن فنکار بھارتی فلموں پر فیصلہ جلد: وزیر31 July, 2004 | فن فنکار فلمیں: کوئی خوش، کوئی نالاں23 January, 2004 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||