پاکستانی فلم کی انڈیا میں نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ميں بنی فلم ’ رام چند پاکستانی‘ کی نمائش یکم اگست کو پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سنیماگھروں ميں بھی ہوگی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی پاکستانی فلم بیک وقت ہندوستان اور پاکستان میں ریلیز ہورہی ہے۔ ان دنوں دلی ميں اوسیان فلمی میلے میں اس فلم کی نمائش کی گئی ہے جس میں شرکت کے لیے فلم کی نوجوان ہدایت کارہ مہرین جاوید جبار اور ان کے والد جاوید جبار دلی آئے تھے۔ گزشتہ دنوں ایک دیگر پاکستانی فلم ’خدا کے لیے‘ کی بھی ہندوستان میں نمائش ہوئی تھی اوراس کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی لیکن یہ فلم دونوں ملکوں ميں ایک ساتھ ریلیز نہيں ہوئي تھی۔ جس طرح فلم’خدا کے لیے‘ میں بالی وڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے کام کیا تھا اسی طرح اس فلم میں بھی بالی وڈ اداکارہ نندیتا داس ایک ماں کے کردار میں نظر آئیں گی۔ فلم کی کہانی پاکستان میں رہنے والے دلت ہندو خاندان کی ہے۔ کہانی کے مطابق ایک آٹھ سالہ لڑکا راستہ بھٹک کر ہندستانی سرحد میں داخل ہو جاتا ہے۔اس کا باپ بھی اس کا پیچھا کرتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔ دونوں کو جاسوسی کے الزام میں قید کر لیا جاتا ہے۔ سرحد کے اس پار بچے کی ماں نندیتا داس رہ جاتی ہیں۔ نندیتا داس بالی وڈ کی ایسی فنکارہ ہیں جنہوں نے متوازی سنیما (پیرلل سینما) میں کام کیا اور ان کے کام کی کافی تعریف ہوئی ہے۔ نندیتا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم انسانی بنیادوں پر مبنی ہے۔’یہ فلم دونوں طرف کے سیاستدانوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دے گی۔ حالانکہ اس فلم میں کسی طرح کی سیاسی لیکچربازی نہیں ہے لیکن اس ایک واقعہ سے بہت کچھ بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
مہرین جنہوں نے’کہانیاں‘ اور’بیوٹی پارلر‘ جیسے کئی کامیاب ٹی وی سیریئل بنائے ہیں، اس فلم کے ذریعہ انہوں نے فلمسازی کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی فلم کے اچھے ہونے کا پیمانہ اس کی تجارتی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پرسیپٹ پکچرز اس فلم کو انڈیا میں نمائش کے لیے پیش کر رہے ہیں۔اس کمپنی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس فلم کو اگلے ماہ ہندوستان کے کئی بڑے شہروں میں ایک ساتھ پیش کریں گے جس میں سنگل سکرین اور ملٹی پلیکس بھی شامل ہیں۔ فلمساز سکرپٹ رائٹر مہیش بھٹ کو اس بات کی خوشی ہے کہ اب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فلموں کے تبادلے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مہرین سے کارا فلم فیسٹول میں ملاقات کر چکے ہیں اور وہ ایک بہترین ہدایات کارہ ہیں انہوں نے ان کی یہ فلم دیکھی ہے۔ بھٹ کا کہنا ہے کہ مہرین نے جو فلم بنائی ہے اسے آپ متوازی سنیما کا نام دے سکتے ہیں۔ایسی فلموں کے ناظرین کی بڑی تعداد ہندوستان میں ہے۔
بقول مہیش بھٹ ’ہندوستان میں نمائش کی گئی پاکستان کی پہلی فلم ’خدا کے لیے‘ کو بھی یہاں لوگوں نے کافی سراہا لیکن وہ فلم باکس آفس پر اچھا بزنس نہیں کر سکی اور یہ فلم بھی ایک بہترین فلم ہے لیکن چونکہ یہ کمرشل فلم کے زمرے میں نہیں آتی ہے اس لیے باکس آفس پر یہ بھی زیادہ کامیاب نہیں ہو گی۔‘ بھٹ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلمسازوں کو یہاں بالی وڈ فلموں کی طرح کمرشل فلموں کی نمائش کرنی چاہیے تاکہ وہ تجارتی نقطۂ نظر سے بھی کامیاب ہوں۔ |
اسی بارے میں پاکستان کی سب سے متنازعہ فلم14 September, 2007 | فن فنکار باادب باملاحظہ ہوشیار، مغل ِاعظم آ رہی ہے22 April, 2006 | فن فنکار پاکستانی سنیما کے مستقبل پر سیمینار31 March, 2006 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار انڈو پاک فلمی صنعت کا اشتراک 07 April, 2005 | فن فنکار بھارتی فلموں پر فیصلہ جلد: وزیر31 July, 2004 | فن فنکار فلمیں: کوئی خوش، کوئی نالاں23 January, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||