بھارتی فلموں پر فیصلہ جلد: وزیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر ثقافت اور سیاحت رئیس منیر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ان کی وزارت ہندوستانی فلموں کی پاکستان کے سینماؤں میں نمائش کے لیے تیار ہے اور اس کی تجویز اب حتمی فیصلہ کے لیے وفاقی کابینہ کے پاس ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن رانا توصیف نے پوچھا تھا کہ کیا ہندوستانی فلموں کو نمائش کی اجازت دینے کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور اگر ہے تو اس کا کیا طریق کار ہوگا اور کب یہ اجازت دی جائے گی۔ اس پر وزیر ثقافت نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کے پاس یہ تجویز زیر غور ہے اور کابینہ کے اس معاملہ پر پالیسی ساز فیصلہ کی روشنی میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ اس کی اجازت کس تاریخ سے دی جائے۔ وزیر ثقافت نے اپنے جواب میں ہندوستانی فلموں کی نمائش کی اجازت دینے کے فوائد بھی گنوائے اور کہا کہ اس سے سینما اور فل کی صنعت کی بحالی میں مدد ملے گی اور حکومت کو کروڑوں روپے کے ٹیکس ملیں گے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ اس قدم کے اٹھانے سے کچھ عرصہ سے ہندوستان میں پاکستان سے نفرت پر مبنی فلمیں بنا ئی جارہی تھیں وہ بننا بند ہوجائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بدلہ میں پاکستانی فلموں کو ہندوستان کی بڑی منڈی مل جائے گی۔ پاکستان میں سینما مالکان کی ایکشن کمیٹی کے چیرمین زوریز لاشاری کا کہنا ہے کہ وفاقی سیکرٹری براۓ ثقافت جلیل عباس آنے والی منگل کو دلی جارہے ہیں جہاں وہ دونوں ملکوں کے درمیان فلموں کے تبادلے کے معاملہ پر ہندوستانی حکام سے بات چیت کریں گے۔ زوریز لاشاری نے کہا کہ ان کو وفاقی سیکرٹری نےبتایا ہے کہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جب دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات ہوں گے تو اس بات ک اعلان کیا جاسکتا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی فلموں کی نمائش کی اجازت دے رہے ہیں۔ پاکستان میں سینما گھر بڑی تعداد میں بند ہوچکے ہیں اور لاہور ارو کراچی جیسے بڑے شہروں کے معروف سینما گھر بند پڑے ہیں۔ سینما مالکان کا کہنا ہے کہ لوگ کیبل ٹی وی پرہندوستانی اور ہالی وڈ کی فلمیں دیکھنے کے بعد سینما گھروں میں کم معیا ر کی پاکستانی فلمیں دیکھنا پسند نہںی کرتے اور انھوں نے سینماؤں کا رخ کرنا بند کردیا ہے۔ سینما مالکان کا مطالبہ رہا ہے کہ سینما گھروں کو بچانے کے لیے حکومت ہندوستانی فلمیں دکھانے کیاجازت دے۔ دوسری طرف بعض ہدایتکار اور فلم ساز ہندوستانی فلموں کو نمائش کی اجازت دینے کے سخت خلاف ہیں جن میں اداکار یوسف حان پیش پیش ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اس سے ہمارے معاشرے میں عریانی اور فحاشی بڑھے گی کیونکہ ہندوستانی فلموں میں بہت عریانی ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||