سینما گھروں کی ہڑتال ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں سینما مالکان نے چھ جولائی سے شروع ہونے والی ہڑتال ملتوی کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرثقافت رئیس منیر نے انھیں مطالبات کی منظوری کے لیے مثبت یقین دہانی کرائی ہے۔ سینما گھروں کے مالکان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انھیں ہندوستانی فلموں کی نمائش کی اجازت دے۔ سینما مالکان کی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ضوریز لاشاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتہ کے روز ان کی وزیر ثقافت رئیس منیر سے ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے سینما مالکان سے ہڑتال کی اپیل واپس لینے کو کہا۔ ضوریز لاشاری کے مطابق وزیرثقافت کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت نے ہندوستانی فلمیں پاکستان کے سینما گھروں میں میں دکھانے کے حق میں سمری (تجویز) بنائی تھی جو اب تین دوسری وزارتوں کے پاس ان کی راۓ کے لیے گئی ہے اور منگل کے روز تک یہ تینوں وزارتیں اس پر اپنی راۓ دے دیں گی۔ لاشاری کا کہنا تھا کہ وزیر ثقافت نے یقین دلایا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ سمری کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کردی جاۓ گی اور اگر کسی وزارت نے اس تجویز پر اعتراض کیا تو وزارت ثقافت اپنی تجویز کا دفاع کرے گی۔ سینما مالکان ایسوسی ایشن نے آج لاہور میں گلستان سیمنا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا اور کہا کہ اگر وزیر ثقافت کی یقین دہانی کے مطابق اس مہینہ کے اختتام تک ان کا مطالبہ منظور نہیں ہوا تو وہ دوبارہ ہڑتال کی کال دیں گے۔ تاہم فلموں کے تقسیم کار اور لاہور کے بتیس میں سے پانچ چھ سینما گھر ہندوستانی فلموں کی نمایش کی مخالفت کررہے ہیں۔ کیبل اور پائریسی کے ستاۓ ہوۓ لاہور کے سینما گھروں کے مالکان نے ایک ہفتہ پہلے ہڑتال پر جانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ ان کا نقصان اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ ان کے کیے کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ سینما مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں بیس سال پہلے پندرہ سو سینما گھر تھے اب ان کی تعداد کم ہوکر دو سو ستر رہ گئی ہے۔ صرف گزشتہ چند ماہ میں پچاس کے قریب سینما گھر بند ہوگۓ۔ سینما کی صنعت کی بدحالی دیکھتے ہوۓ اس مالی بجٹ میں پنجاب حکومت نے سینما ٹکٹوں سے تفریحی ٹیکس ختم کرنے کااعلان کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||