نشاط سنیما: ایک دور جو ختم ہوگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سنیما انڈسٹری کے بُرے حالات تو ایک عرصے سے زیر بحث ہیں۔ لیکن بات کہاں تک پہنچ گئی ہے اس کا صحیح اندازہ عام لوگوں کو پچیس جون کو اس وقت ہوا جب کراچی (اور پاکستان) کے سب سے پرانے سنیما گھر نشاط نےاپنے دروازے فلم بینوں کے لئے بند کردئیے۔ صرف دو ماہ پہلے ایک اور پرانا سنیما ’اسٹار‘ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا تھا۔ فلم کے شائقین اور کراچی کی ثقافتی تاریخ کے پاسداروں کے لیے یہ واقعہ کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔ کراچی کی مشہور بندر روڈ ( اب ایم اے جناح روڈ) پر واقع نشاط سنیما کا کراچی کے سنیما گھروں میں ایک منفرد مقام ہے۔ ایک تو یہ 1948 سے قائم ہے اور اس لحاظ سے یہ کراچی اور پاکستان کا سب سے پرانا سنیما گھر ہے۔ جو ابھی تک چل رہا تھا۔ دوسرے اس کا افتتاح قائداعظم کی بہن مادرِملّت محترمہ فاطمہ جناح نے کیا تھا۔ نشاط میں پہلی فلم ’ ڈولی‘ دکھائی گئی۔ اُس وقت یہ سنیما کراچی کے مشہور پارسی بزنس مین گوڈریج کانڈاوالا کی ملکیت تھا۔ اس حوالے سے یہ ایک ایسے وقت کا نشان بھی ہے جو آج کے دور سے اتنا ہی دور لگتا ہے جیسے کوئی اور ہی دنیا۔
1963ء میں نشاط سنیما کی ملکیت مانڈوی والا خاندان کے پاس چلی گئی۔ ندیم مانڈوی والا نے، جو خود فلموں کے مداح ہیں، وقتاًفوقتاً سنیما میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ 1988ء میں نشاط پاکستان کا پہلا سنیما گھر تھا جس نے سٹیریو ساؤنڈ کی ٹیکنالوجی اپنائی۔ اور 1997ء میں ڈولبی ڈیجیٹل سراؤنڈ ساؤنڈ بھی آگیا۔اُن کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے سنیما گھروں نے بھی یہ نئی ٹیکنالوجی اپنالی۔ لیکن فلم بینوں کے لئے نشاط ہمیشہ سب سے بہتر سنیما قرار پایا۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کے باقی سنیماؤں سمیت نشاط بھی برے مالی حالات کا شکار ہوگیا تھا۔ ندیم مانڈوی والا کے مطابق نشاط صرف چار سے پانچ فیصد گنجائش پر چل رہا تھا جبکہ اخراجات پورے کرنےکے لئے کم از کم چالیس فیصد ٹکٹ بیچنا لازمی ہوتا ہے۔ ندیم مانڈوی والا اس صورت حال کی ذمہ داری وڈیو اور کیبل پائریسی پر ڈالتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں سنیماگھروں پر ہر طرح کی پابندیاں ہیں وہاں حکومت نے ہالی وڈ اور بھارتی فلموں کی مارکیٹوں میں غیر قانونی بھر مار روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے سنیما جانا ہی چھوڑ دیا۔ جب آپ کو گھر بیٹھے بغیر سینسر کی ہوئی وہ فلمیں دیکھنے کومل جاتی ہیں جو سنیمامیں نہیں ملتیں تو آپ کیوں سنیما کا رخ کریں گے۔ اس کے علاوہ سنیماوں پر بھاری ٹیکسوں اور پاکستانی فلم انڈسٹری کی غیر معیاری فلموں نے بھی لوگوں کو سنیماؤں سے دور کردیا۔
لگتا ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری نے بھی، جو 1965ء سے بھارتی فلموں کے خلاف رہی ہے، اس بات سے سمجھوتا کرلیا ہے۔ کیونکہ انہیں بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ اس کے بغیر سنیما بند ہوتے چلے جائیں گے۔ اور جب دوکان ہی نہ رہی تو مال کہاں بکے گا؟ یہاں نشاط سنیما کا ذکر ایک علامت کے طور پر آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے، خاص طور پر جنرل ضیا الحق کے دور میں، سنیما کے بارے میں جو حقارت انگیز پالیسی اپنائی تھی، اُس کے بعد ملک کے تقریباً ہر شہر میں سنیما گھروں کو بندکرکے اُن کی جگہ کمرشل پلازے تعمیر کرنے کا رجحان شروع ہوگیا تھا۔ جس میں صرف چند ماہ کے اندر لوگ کروڑوں روپے کھرے کرلیتے تھے۔ پھر ٹی وی، اورجیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے، کیبل اور وڈیو پائریسی نےسنیما گھروں کی بد حالی میں رہی سہی کسر پوری کردی۔ سنیما صرف ایک سستی عوامی تفریح ہی نہیں، کلچر کا ایک حصّہ بھی ہے۔ اُسے بچانے کے لئے کسی نہ کسی سطح پرکچھ نہ کچھ ضرورہونا چاہئے۔ تھیٹر کے بعد سنیما کا زوال پاکستان کی ثقافتی پیش منظر کا کچھ اچھا نقشہ پیش نہیں کرتا۔ نشاط سنیما کا مستقبل بھی حکومتی لائحہ عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت پچھلے تقریباً چالیس سال کی پالیسی پر نظر ثانی کرتی ہے تو سنیماؤں کی رونق شاید دوبارہ بحال ہوجائے ورنہ کراچی اور پاکستان کا ایک اور ثقافتی ورثہ قبر میں اتر جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||