’بُھوت‘ بہترین فلم ہے: رام گوپال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے نامور ہدایتکار رام گوپال ورما کا کہنا ہے کہ ’رنگیلا‘، ’ستیا‘ اور ’کمپنی‘ کے شاندار کامیابی کے باوجود وہ ’بھوت‘ کو اپنی بہترین فلم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی ورلڈ کے دستاویزی پروگراموں کے نئے سلسلے ’بالی ووڈ باسز‘ کے لیے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ رام گوپال ورما پر بنائے گئے دستاویزی پروگرام میں ان کی فلم کمپنی کے ہیرو ووک ابروئے، اداکارہ انتارا مالی اور کئی نامور فلمی ناقدین کے خصوصی انٹرویو بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے کے دیگر پروگراموں میں ’دیوداس‘ اور ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے تخلیق کار سنجے لیلا بھنسالی، ’کبھی خوشی کبھی غم‘، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’کل ہو ناں ہو‘ کے ہدایت کار کرن جوہر، ’سلسلہ‘، ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ اور ’دل تو پاگل ہے‘ کے تخلیق کار یش چوپڑا اور ’کہو ناں پیار ہے‘ اور ’کوئی مل گیا‘ کے ہدایت کار راکیش روشن کے فنی سفر کا جائزہ لیا جائے گا۔
’کسی فلم کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کہانی اور کرداروں کے حوالے سے فلم کا اپنا مواد کیا ہے اور ہدایت کار کا کمال کیا ہے۔ ’ستیا‘ ہی کو لے لیجیئے! اس کی کامیابی پاورفل کہانی اور جاندار کرداروں کے مرہون منت ہے نہ کہ ہدایت کاری کے۔ اس کے برعکس ’بُھوت‘ کے زیادہ تر حصے میں ایکشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور میں نے فلم بینوں کی دلچسپی کو کیمرہ موومنٹ اور بیک گراؤنڈ میوزک کی مدد برقرار رکھا۔ ارمیلا ٹی وی دیکھ رہی ہے، اجے دفتر جا رہا ہے یا واپس آ رہا ہے۔ آپ دیکھیں کہانی تو وہیں کھڑی ہے ناں۔ اور یہی وہ وقت ہے جہاں آپ کے ٹیلنٹ کا امتحان ہوتا ہے۔‘ انڈرورلڈ پر بنائی گئی اپنی فلموں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی بھی فلم انڈرورلڈ کے بارے میں لوگوں کی تربیت کرنے کے لیے نہیں بنائی۔ ’ستیا میں آپ دیکھتے ہیں کہ جو بھی بندوق اٹھاتا ہے وہ فلم کے آخر میں ایک بدترین موت مرتا ہے اور جو لوگ مجھ پر تشدد کو سراہنے کا الزام لگاتے ہیں ان کے لئے میرا جواب بھی یہی ہے۔‘ (’بالی ووڈ باسز‘ بی بی سی ورلڈ پر سنیچر کے روز گرینج کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے چار بجے اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے پیش کیا جائے گا۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||