ہند پاک فلمیں، فائدہ کس کا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ فلمیں پاکستان میں اور پاکستانی فلمیں ہندوستان میں نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہیں لیکن کیا اس سے دونوں ممالک کی فلمی صنعت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے؟ پاکستانی فلمساز شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ کے بعد اب جب مہرین جبار کی فلم ’ رام چند پاکستانی ‘ اگلے ماہ نمائش کے لیے پیش ہونے جارہی ہے تو فلمی ناقدین اور تجارتی تجزیہ نگاروں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں ڈوبتی ہوئی فلمی صنعت کو اس سے کچھ سہارا ملے گا۔ فلموں کے تجارتی تجزیہ نگار امود مہرہ مانتے ہیں کہ دونوں ممالک کی فلمی صنعت نے یہ ایک اچھا اور مثبت قدم اٹھایا ہے۔ ان کے خیال ميں پاکستان کے سنیما گھروں میں بالی وڈ فلموں کی نمائش سے ان کا اچھا خاصا بزنس شروع ہو گیا ہے لیکن اس سے پاکستانی فلمی صنعت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان کی جو فلم انڈیا میں نمائش کے لیے پیش ہوئی اس نے کوئی خاص بزنس نہیں کیا۔ مہرہ کے مطابق’ خدا کے لیے‘ نے ناقدین سے تعریف تو حاصل کر لی لیکن بزنس نہیں کر سکی۔ اس فلم نے صرف ممبئی میں کچھ بزنس کیا اور باکس آفس رپورٹ کے مطابق فلم نے مشکل سے ڈیڑھ کروڑ روپے ہی کمائے جو بالی وڈ کی کمرشل فلموں کے مقابلے کچھ بھی نہیں ہے۔ فلمساز مہیش بھٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فلم جو ریلیز ہو چکی اور جو نمائش کے لیے پیش ہونے والی ہے اس سے انہوں نے خود کو ثابت کر دیا کہ ان کے پاس آئیڈیا ہے اور فن کو اچھی طرح برتنے کا انداز بھی ہے۔ بھٹ کے مطابق بالی وڈ نے اب متوازی سنیما کا دامن چھوڑ دیا تھا اور پاکستان کی ان فلموں نے ایک بار ایسے ناظرین کی تشنگی بجھانے کا کام کیا ہے لیکن ساتھ ہی بھٹ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی فلمسازوں کو اپنی صنعت کو بچانا ہے تو انہیں کمرشل سنیما کا رخ کرنا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں ’ان کے پاس اچھی موسیقی اور گلوکاروں کا خزانہ ہے جس کا انہوں نے استعمال کیا اور آج ان کی فلموں کے نغمے انڈیا میں بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عاطف کو گلوکاری کی دنیا کا سٹار بنا دیا۔
سکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی مانتے ہیں ’ فلم ’خدا کے لیے‘ ایک اچھی فلم تھی اور اسے ہندؤں نے بھی بہت سراہا تھا لیکن سیکولر افراد کا یہ ایک بہت ہی محدود طبقہ تھا۔انڈیا میں ابھی ایسا ایک بڑا گروپ ہے جو سیاست اور مذہب کے نام پر پاکستانی فلموں سے گریز کرے گا۔‘ صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان میں فلمسازوں کے پاس بالی وڈ جیسی فلمیں بنانے کے لیے سرمایہ کی کمی ہے۔پاکستان میں فلمی صنعت اس وقت بہتر ہو سکتی ہے جب وہاں سرمایہ کاری ہو اور محض پنجابی یا پشتو کے بجائے اردو فلمیں بھی بنیں۔ وہ مزيد کہتے ہیں کہ لاہور کے بیشتر سٹوڈیو ویران پڑے ہیں۔وہاں کے ایورنیو سٹوڈیو میں بیس فلورز ہیں لیکن ان میں سے بیشتر بند رہتے ہیں۔شباب کیرانوی کا کئی ایکڑ پر مشتمل شباب سٹوڈیو جو کسی زمانے میں انتہائی شاندار ہوا کرتا تھا اب وہاں گھاس اگی ہوئی ہے۔ فلمساز شہزاد رفیق کی فلم ’محبتاں سچیاں‘ جو انڈیا کے کئی شہروں میں نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی۔اس پر بڑی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ فلم کی موسیقی انڈیا میں ریکارڈ ہوئی تھی اس نے اتنا اچھا بزنس نہیں کیا جتنا اسے کرنا چاہئے تھا۔ مہرہ مانتے ہیں کہ پاکستانی فلمسازوں کو اپنی ڈوبتی فلمی صنعت کو بچانے کے لیے اچھے سرمایہ کی ضرورت ہے اور جب تک وہ بالی وڈ جیسی کمرشیل فلمیں بنا کر مارکیٹ میں نہیں اترتے انہیں کامیابی نہیں مل سکتی۔البتہ انڈیا کو ایک فائدہ ہوا ہے اور یہ کہ یہاں کے ناظرین کو اچھی فلمیں دیکھنے مل رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستانی فلم کی انڈیا میں نمائش 15 July, 2008 | فن فنکار فلم انڈسٹری کے کھٹے میٹھے رشتے02 August, 2005 | فن فنکار ممبئی میں پاکستانی فلم کی شوٹنگ16 July, 2005 | فن فنکار فِلم سازی کے ارتقاء پر ایک نظر 26 April, 2005 | فن فنکار مہیش بھٹ کی’نظر‘ میں میرا07 December, 2004 | فن فنکار بالی وڈ اور لالی وڈ کی دوستی01 October, 2004 | فن فنکار بھارتی فلموں پر فیصلہ جلد: وزیر31 July, 2004 | فن فنکار سٹارز شوز کی دوڑ میں کون آگے04 May, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||