BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہیش بھٹ کی’نظر‘ میں میرا

میرا
’یہ پوری فلم میرا پر ہے‘: مہیش بھٹ
معروف بھارتی فلم ساز و ہدایت کار مہیش بھٹ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی نئی فلم ’نظر‘کے ذریعے انہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ فلم سازی کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی یہ فلم جنوری کے اختتام میں ریلیز کر دی جاۓ گی۔

وہ آج لاہور پریس کلب کے پروگرام ’ میٹ دی پریس ‘سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر پاکستانی فلمی اداکارہ میرا بھی موجود تھیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی ہیروئن کے گرد گھومتی ہے اور ہیروئن کا کردار پاکستانی اداکارہ میرا نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس فلم کو پاکستان میں نمائش کی اجازت ملتی ہے یا نہیں لیکن انہوں نے اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان فلم سازی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فلم مکمل ہوچکی ہےاور دو تین دن کا تکینکی کام باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فلم کی ڈائریکٹر ان کی اہلیہ سونیا ہیں اور پاکستانی اداکارہ میرا نے اس فلم میں بڑا اچھا کام کیا ہے انہوں نے توقع سے بڑھ کر کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیوی سے جب بھی پوچھتے کہ میرا نے کیسا کام کیا ہے تو جواب ملتا کہ ’معیار سے بلند تر‘

انہوں نے کہا کہ میرا سیٹ پر کام کر رہی ہوتی تھیں تو سینکڑوں لوگ دیکھنے آتے کہ پاکستانی فنکار کس طرح کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس فلم میں میرا کا کردار شروع سے اختتام تک ہے اور ماضی میں پاکستانی فنکاروں کو یہ شکایت رہی ہے کہ ان کا کردار محدود ہوتا ہے یا بعد میں کاٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ پوری فلم میرا پر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس فلم کے فنانسر بھی پاکستانی ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ فلم کامیاب ہوگی کیونکہ ان کے خیال کے مطابق یہ ایک اچھے میعار کی فلم بن گئی ہے۔

شکایتوں کا خاتمہ
 ماضی میں پاکستانی فنکاروں کو یہ شکایت رہی ہے کہ ان کا کردار محدود ہوتا ہے یا بعد میں کاٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ پوری فلم میرا پر ہے۔
مہیش بھٹ

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے ساتھ کام کرنے کا ان کی تجربہ نیا نہیں ہے اور انہوں نے اس زمانے میں پاکستانیوں کے ساتھ کام کیا جب وہاں پر پاکستانیوں کا نام سننا گوارا نہیں کیا جاتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کل لاہور کے لکشمی چوک گئے تھے اور وہاں سینما کے اشتہاری بورڈوں پر انہیں کوئی کم عریانی نظر نہیں آیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت میں فلم میں عریانی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا بڑا مسئلہ اسے پاکستان میں سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد