دہشت گردی کے خلاف پاکستانی گیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پاپ گلوکاروں کا دہشت گردی کے خلاف گایا ہوا ایک گانا ریلیز کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے منفی تصور کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ اس گیت کی سینیچر کے روز ریلیز ہونے والی ویڈیو کا پیغام واضح ہے کہ دہشت گردی ایک سفاکانہ قتل ہے۔ اور قتل ایک حرام فعل ہے جو اسلام میں ناقابلِ قبول جرم ہے۔ اس پیغام کے بعد اس میں ایک نوجوان لڑکی کو دکھایا جاتا ہے جو کسی بم دھماکے میں زخمی نظر آ رہی ہے۔ یہ گیت پاکستان کے دو معروف گلوکاروں حدیقہ کیانی اور علی حیدر نے گایا ہے۔ گیت کے بول میں میانہ روی کی تاکید ہے اور نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتہا پسندی کو مسترد کر دیں۔ اس گیت کے خالق برطانیہ کے براڈکاسٹر اور مصنف وسیم محمود ہیں۔
اس گیت کے بول ہیں ’یہ ہم نہیں‘ اور اس میں پیغام دیا گیا ہے کہ دراصل یہ پاکستانی نوجوانوں کے دل کی آواز ہے۔ یہ ان بیشمار لاکھوں لوگوں کی آواز ہے جن کا ایمان ہے کہ اسلام ایک امن اور تحمل کا مذہب ہے اور یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ پاکستان میں اس گیت کی کامیاب ریلیز کے بعد اسے مغربی ممالک میں بھی متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاکہ یہاں یہ بتایا جا سکے کہ مسلمانوں کی خاموش اکثریت درحقیقت کیا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان جو فاصلے ہیں انہیں دور کیا جا سکے۔ پاکستان میں یہ کوشش پہلی مرتبہ نہیں کی گئی۔ اس سے قبل سن دو ہزار ایک میں پاپ موسیقی کے گروپ جنون نے بھی انگریزی زبان میں اس قسم کا ایک گیت گایا تھا جس میں گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں حدیقہ کیانی کا ’رف کٹ‘08 December, 2004 | فن فنکار ہنس راج ہنس بمقابلہ ابرارالحق07 June, 2004 | فن فنکار زلزلے کا یتیم بچہ حدیقہ کی گود میں09 November, 2005 | پاکستان عاطف بالی وڈ سنگر کے ساتھ 17 June, 2006 | فن فنکار نیشنل ڈانس فاؤنڈیشن کا منصوبہ14 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||