BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 September, 2003, 16:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کہیں ہیرو کہیں زیرو

رؤف خالد
رؤف خالد کی تخلیق لاج تیکنیکی خوبیوں کے باوجود فلم بینوں کو متاثر نہیں کر سکی

دنیا کے کسی بھی ملک میں ٹیلیویژن اور فلمی صنعت کو دو متحارب دھڑوں کی حیثیت حاصل نہیں ہے لیکن پاکستان میں ان کو دو متضاد میڈیا میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں انیس سو تراسٹھ میں ٹی وی کا آغاز ہوا ہے۔ ٹیلیویژن کا آغاز کرنے میں جن تکنیک کاروں نے حصہ لیا ان کا تعلق فلم سے تھا۔ البتہ پروڈیوسروں میں زیادہ تعداد ان اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تھی جو بیرونِ ممالک سے ٹی وی تکنیک، سکرین پلے رائٹنگ اور ہدایتکاری کی تربیت حاصل کرکے آئے تھے۔

فلم اور ٹی وی میں یہ مخاصمت کیوں ہے؟ اس کو ابھی تک سمجھا نہیں جاسکا۔ بعض حلقوں کا تو یہ کہنا ہے کہ ٹی وی پروڈیوسرز احساسِ برتری میں مبتلا ہیں اور اسی احساس کے تحت انہوں نے کبھی بھی فلم والوں سے اظہارِ ہمدردی نہیں کیا۔

اس ضمن میں کنور آفتاب احمد سب سے پہلی مثال ہیں جنہوں نے اعلیٰ فنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ’جھلک‘ کے نام سے فلم بنائی جو بری طرح ناکام رہی۔

 پاکستانی ماڈلز
فہیم برنی نے فلم پیار ہی پیار میں ماڈلز کو آزمانے کی کاوش کی ہے

پروفیسر اشفاق احمد تشریف لائے اور انہوں نے ’دھوپ اور سائے‘ ایک تجزیاتی فلم بنائی لیکن ناکام رہے۔ مشہور ادیب، نقاد اور دانشور اور کالم نگار احمد بشیر نے ’نیلا پربت‘ بنائی اور ناکام ہوکر واپس چلے گئے۔ یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ فلم ایک کمرشل میڈیا ہے جبکہ اس کے مقابل ٹی وی نان کمرشل میڈیا کہا جاتا ہے۔ فلم میں ضرورت سے زیادہ ٹریٹ مینٹ فلم کو ناکام بنانے کا سبب بنتی ہے جبکہ ٹی وی میں ایک ایک شاٹ پانچ پانچ سو فٹ سے کم نہیں ہوتا۔

ٹی وی دیکھنے والے اگر کوئی لمبا شاٹ دیکھ کر بور بھی ہوں تو کس سے شکایت کرسکتے ہیں۔ یہی صورتِ حال اگر فلم میں ہو تو لوگ سینما کی کرسیاں توڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

اس سے یہ اندازہ ہوا کہ فلم کا ہدایتکار اس میڈیا کو کمرشل انداز سے سوچتا ہے جبکہ ٹی وی ہدایتکار اس بات کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان کی نظر میں مردہ جنت میں جائے یا جہنم میں وہ تو کفن پہنانے کی بات کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فلم ہدایتکار جب ٹی وی پروڈکشن میں آتا ہے تو وہ اسی کمرشل سوچ کے ساتھ آتا ہے جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ فلم کے ہدایتکار محمد جاوید فاضل اگر کسی وجہ سے فلم میڈیا سے ناکام ہوکر ٹی وی میڈیا میں آئے تو انہوں نے ٹیلی ویژن ڈرامے کو بھی اسی فارمولے کے تحت ڈائریکٹ کیا جو وہ فلم میں استعمال کرتے آئے ہیں۔

فلم کی فیلڈ میں موجودہ دور میں ناکام ہونے والے ہدایتکاروں میں سید سلیمان، دلاور ملک، فیصل بخاری، عثمان ذوالفقار اور داؤد بٹ نے ٹی وی سکرین کو نئی جہد سے روشناس کرایا اور وہ بے حد کامیاب بھی رہے۔ انہوں نے اعلی تعلیم یافتہ اور ٹی وی کے سینئر ترین ہدایتکاروں کی روش سے ہٹ کر ڈرامے تخلیق کئے۔ فٹ ورک، کیمرہ موومنٹ، سیٹ ڈیزائننگ، فوٹوگرافی اور اداکاری میں نئے نئے اسلوب تراشے اور اپنے آپ کو فلم ڈائریکشن میں ناکامی سے بد دل ہونے کی بجائے ٹی وی میں ایڈجیسٹ کیا۔ دوسری طرف ٹی وی کے ہدایتکار جو فلم کے ہدایتکاروں درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے جب فلم میڈیا میں آئے تو بری طرح ناکام ہوئے۔ انہوں نے فلم میں آنے پر بلند بانگ دعوے کئے لیکن یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اس لئے کہ ان اعلی تعلیم یافتہ ہدایتکاروں کی کوئی بھی فلم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی۔

مثال کے طور پر آصف علی پوتا نے کامیاب سیریل لکھے اور ڈائریکٹ بھی کئے جب ’فائر‘ بنانے کا اعلان کیا تو میڈیا میں طوفان برپا کردیا کہ وہ فلم کی دنیا میں انقلاب برپا کردیں گی، لیکن ان کی ڈائریکٹ کردہ فلم ’فائر‘ کو ایک ناکام پنجابی فلم کی طرح عوام نے رد کردیا۔

اسی طرح کراچی کے معروف اور تجربہ کار ہدایتکار فہیم برنی نے بھی ’ پیار ہی پیار میں‘ بنانے پر کہا کہ وہ ایسی فلم بنائیں گے جو سینماؤں میں طوفان برپا کردی گی لیکن ’ کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کے مصداق ایک اعلی سپر کلاس تعلیم یافتہ ہدایتکار نے فلم بنائی جس کا کوئی سر تھا نہ پیر۔

فلم کے ہدایتکار اگر ٹی وی فیلڈ میں داخل ہوکر کامیاب رہے ہیں تو یہ وجہ ان کی کمرشل سوچ ہے۔ ان فلم ہدایتکاروں کی دیکھا دیکھی اب مبشر لقمان بھی ایک خطیر رقم کے ساتھ فلم میں آئے ہیں۔

فلم ڈائریکشن میں آنے سے قبل انہوں نے فلم لائن کا مکمل سروے کیا۔معروف ہدایتکاروں سے ملاقاتیں کیں اور ہر قسم کے جائزہ کے بعد انہوں نے ’ پہلا پہلا پیار‘ کے نام سے بنائی ہے۔

پاکستانی ماڈلز
ماڈلز فیشن شوٹس میں تو اچھے لگتے ہیں لیکن فلم کا معاملہ ذرا مختلف ہے

رؤف خالد کی سابقہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی تھی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن یہ تیکنیکی لحاظ سے ایک اچھی فلم ہونے کے باوجود فلم ’لاج‘ بزنس کے اعتبار کامیاب نہیں ہو سکی۔

فلم ’لاج‘ کی ناکامی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ فلم کی ہدایتکار تو اپنی کمرشل سوچ کے تحت ٹی وی میں کامیاب ہیں جبکہ ٹی وی ہوایتکار اعلی تعلیم یافتہ اور فنی خوبیوں سے آراستہ ہونے کے باوجود ناکام رہے ہیں۔

ایک اور ٹی وی کا مشہور نام فاروق مینگل بھی قسمت آزمائی کے لئے فلم میں آچکے ہیں۔ ابھی ابتدائی تیاریوں میں ہیں، دیکھیں کیا رنگ اختیار کرتے ہیں۔

ان دو متحارب میڈیا کے ہدایتکاروں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ فلم کے ہدایتکار، ٹی وی کے ہدایتکاروں کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد