بات ناموس کی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمال مغرب میں افغانستان کے ساتھ قبائلی علاقوں میں ایک کہاوت ہے کہ ’اگر جان پر بن آئے تو دنیا آگے کردو، اور اگر عزت پر بن آئے تو جان آگے کر دو‘۔ گویا عزت کو جان پر فوقیت حاصل ہے۔ میرے خیال میں یہ کہاوت پختونولی، قبائلی کوڈ آف آنر یا ضابطۂ ناموس کی پاسداری کے لئے پختون نفسیات کو سمجھنے میں خاصی مددگار ہے۔ ’عزت‘ کیا ہے؟ یہ ایک موضوعی بات ہے کیونکہ ہر معاشرے، قبیلے، خاندان اور فرد کے نزدیک اس کا پیمانہ الگ ہو سکتا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ اگر ایک فریق یہ بات سمجھ بیٹھے کہ اس کی عزت مجروح ہوئی ہے تو پھر اسے بحال کرنے کے لئے وہ ہر مروجہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس موضوع پر لکھنے کا خیال مجھے یہاں بی بی سی میں میرے رفقاء کار کے ساتھ جنوبی وزیرستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر گفتگو کے بعد آیا۔ ان کے لئے یہ بات اچھنبے کا باعث تھی کہ قبائلی علاقے میں مطلوب افراد، اور وہ بھی القاعدہ کے مفرور ارکان کو پناہ دینے والوں، کو گرفتار کرنے کے لئے حکومت وہاں کے باشندوں کو الٹی میٹم دیتی ہے۔ آخر ان لوگوں کے خلاف کراچی، اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد وغیرہ میں کی جانے والی کارروائیوں کی طرح، جن میں غیر ملکی خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوں، چھاپے کیوں نہیں مارتی۔ بات معقول لگتی ہے۔ مگر میں عرض کروں کہ ان آزاد قبائل کی حیثیت ملک کے دوسرے علاقوں سے بالکل مختلف ہے۔ ان لوگوں نے کبھی کسی کی براہ راست حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ یہاں کبھی نہ کوئی نواب رہا، نہ سردار ۔۔۔ نہ کوئی زبردست اور نہ ہی کوئی زیردست۔ یہ لوگ صدیوں سے قبائلی طرز معاشرت کے تحت زندگی بسر کر رہے۔ ان کے اپنے قبائلی قوانین ہے جو ان کی عزت، جان اور مال کی سلامتی کے ضامن ہیں۔
تاریخی طور پر مغلوں اور پھر انگریزوں نے افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کی غرض سے تعلقات کار قائم کئے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہاں سے گزرنے والے تجارتی قافلوں کو تحفظ ملنے کے ساتھ ملک کی شمال مغربی سرحدیں بھی محفوظ ہوگئیں۔ انگریزوں نے اس تعلق کو زیادہ رسمی بنانے کے لئے قبائلیوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت فرنٹیئر کرائمز ریگیولیشنز (ایف سی آر) کا نفاذ کیا جسے پاکستانی حکومتوں نے بھی برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اہلکار یہاں براہ راست کارروائی نہیں کرتے بلکہ اگر تعزیرات پاکستان یا ایف سی آر کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی ملزم ان علاقوں میں روپوش ہوجائے تو پولیٹیکل ایجنٹ وہاں کے سفید ریش یا قبائلی عمائدین کا جرگہ طلب کرکے صورتحال سامنے رکھتا ہے جس کے بعد ’اجتماعی ذمہ داری‘ کے قانون کے تحت متعلقہ شخص کے خیل یا برداری کو وقت دیا جاتا ہے کہ وہ مطلوبہ شخص کو حکام کے حوالے کرے۔ ’اجتماعی ذمہ داری‘ کا قانون خود قبائلی علاقوں میں رائج ہے اور تسلیم شدہ ہے۔ اس کے تحت بھائی کے بدلے بھائی یا پھر وارثوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس قانون کی اپنی ایک حکمت ہے جو قبائلی طرز معاشرت میں بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔ وفاق کے زیرانتظام ان علاقوں کو انتظامی طور پر سات ایجنسیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا کل رقبہ تقریباً ستائیس ہزار کلومیٹر اور آبادی تیس لاکھ نفوس سے زیادہ ہے۔ ان میں باج وڑ، خیبر، کُرّم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، مہمند اور اورکزئی ایجنسیاں شامل ہیں۔ ان علاقوں کو بوجوہ قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوئی مؤثر کوشش نہیں کی گئی۔
خیر یہ تفصیل تو اپنی جگہ رہی۔ اصل بات یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں حالیہ کشیدگی وہاں کے لوگوں اور ارباب اختیار کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں۔ ایک طرف فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کہتے ہیں کہ علاقے میں القاعدہ کے ارکان کو پناہ دی گئی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری طرف مہمند ایجنسی سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا غلام صادق کہتے ہیں کہ وہ صدر جنرل مشرف پر واضح کر چکے ہیں کہ نہ تو قبائلی علاقوں میں القاعدہ ارکان روپوش ہیں اور نہ ہی ان علاقوں میں کوئی آپریشن برداشت کیا جائے گا۔ ایک اور قبائلی رہنما حاجی زالم خان کا کہنا ہے کہ جس علاقہ میں چھاپہ مارا گیا وہاں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے وہاں تعینات فوج کے بارے میں قبائلیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جس وقت ملزمان کے گھر گرائے جارہے تھے تو عورتوں اور بچوں کو گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں انتہائی اشتعال پھیل گیا۔گھر منہدم کیے جانے کی کارروائی میں غلطی کا اعتراف تو خود حکومت نے بھی کیا اور دو یتیم بچوں کے گھر گرانے کے عوض انہیں پچاس ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ لوگوں میں اشتعال کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی امریکی ایما پر کی جارہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسی اشتعال کے نتیجہ میں بعض لوگوں نے فوجی کیمپ پر راکٹ داغے جس کے نتیجہ میں چار فوجی ہلاک ہوگئے۔ قبائلی علاقوں میں کارروائی کے دوران اب تک پاکستان فوج کے کم سے کم چودہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب قبائلیوں اور فوج میں ایک لحاظ سے براہ راست تصادم کی فضا قائم ہوجانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ حالانکہ بانئی پاکستان نے قبائلی علاقوں کے دورے کے وقت سب سے پہلا حکم ان علاقوں سے فوجوں کی واپسی کا دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں کی حفاظت یہاں کے قبائلی کریں گے۔ اس طرح انہوں نے ان لوگوں کے دل جیت لئے تھے۔ اس سے قبل انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنے خلاف ہونے والی شورشوں کو دبانے کے لئے یہاں مستقل کیمپ قائم کر رکھے تھے۔ تاہم وہ بھی یہاں کی قبائلی روایات میں مداخلت سے گریز کرتے تھے۔ فقیر ایپی، عجب خان آفریدی، حاجی ترنگزئی اور دوسرے قبائلیوں کی انگریزوں کے خلاف شورشیں اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کا باغی کہلاتا ہے۔ خود آفریدی قبیلے سے تعلق کی بنا مجھے اندازہ ہے کہ اس وقت جنوبی وزیرستان میں وہاں کے باشندوں کے لئے صورتحال کس قدر نازک ہے۔ اگر حکومت کا یہ دعوٰی درست ہے کہ وہاں القاعدہ ارکان موجود ہیں اور بعض قبائلی رہنماؤں نے انہیں پناہ دے رکھی ہے تو بھی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ اور اس کی وجہ ان لوگوں کا ضابطۂ ناموس یا پختونوالی ہے۔ پختونولی کا ایک تقاضا تو یہ ہے کہ اگر کسی کو پناہ دیدی گئی تو پھر نہ تو اس پر خود وار کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ پناہ گزیں کو نقصان پہنچائے۔ اور اگر کسی کی پناہ میں آئے ہوئے شخص کو کوئی گزند پہنچتی ہے تو اسے پناہ دینے والے خود اپنی عزت پر وار تصور کرتا ہے اور مذکورہ بالا قول کی پیروی میں ہر اقدام کر گزرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس کی حالیہ تاریخ میں ایک مثال القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے طالبان حکومت کا انکار ہے۔ طالبان کا موقف تھا کہ اسامہ ان کے مہمان ہیں۔ یہ اصول امریکہ اور یورپی ممالک کی دفاعی تنظیم نیٹو کی اس شق سے زیادہ مختلف نہیں کہ تنظیم کے کسی ایک رکن ملک کے خلاف حملہ تمام ارکان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے باشندے جب اپنے وطن میں ایذا رسانی اور جان کے خطرے کے پیش نظر یورپ میں سیاسی پناہ لیتے ہیں تو چاہے اپنے وطن میں وہ ’مجرم‘ ہی قرار دیئے جا چکے ہوں پناہ دینے والا ملک ان کی جان اور مال کی حفاظت کرتا ہے۔ پختونولی کا دوسرا نکتہ ’بدل‘ ہے یعنی بدلہ لینا۔ معاف کیجئے میں یہاں قبائلی روایات کی ترویج نہیں کر رہا بلکہ وضاحت کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے طاقت کی جگہ حکمت سے کام لیا جائے۔ ظاہر ہے کہ متاثرہ شخص بدلہ لینے کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرتا ہے۔ ان ہی علاقوں میں ایک اور کہاوت بڑی عام ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سو سال بعد اپنے دادا کے قتل کابدلہ لیا تو لوگوں نے کہا: ’تم نے بدلہ لینے میں اب بھی جلدی کی!‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||