’ایجنسی کونسلیں نامنظور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے بدھ کو حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں کے لیے مجوزہ ایجنسی کونسلوں کے قیام کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جسے ’ایجنسی کونسلیں نامنظور‘ اور ’فرنٹیر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم‘ جیسے نعروں کے بینرز سے سجایا گیا تھا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔ بعد میں مظاہرین جن میں غیرسرکاری تنظیم خویندوں کور، عورت فاونڈیشن، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، خیبر یونین، جماعت اسلامی اور قبائلی صحافیوں کی تنظیم کے اراکین نے گورنر ہاوس تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے گورنر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ مقررین نے اس موقع پر خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف پر قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے وعدہ پر وفا نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اپنے احتجاج کو اسلام آباد تک لے جانے کی دھمکی بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر علاقوں کے برعکس قبائلیوں کو جمہوریت سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے تحت ان مجوزہ کونسلوں کے لیے اراکین منتخب نہیں بلکہ نامزد کیے جائیں گے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||