عدالتی پابندی پر بھی جرگے جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شائستہ عالمانی کی شادی کے بعد تین قبیلوں کے درمیان بھڑک اٹھنے والے خونی تنازعہ کا سرداروں کےجرگے میں تصفیہ کر لیا گیا ہے۔ ان قبائلی تصادموں میں کورائی قبیلے کے نو اور مہر قبیلے کا ایک شخص قتل کردیا گیا تھا جبکہ کورائی قبیلے کی چار اور مہر برادری کی تین خواتین کو اغوا کیا گیا تھا- پیر کے روز جرگہ سردار رحیم بخش بوزدار کی سربراہی میں گھوٹکی ضلع کے شہر گڑھی چاکر میں ہوا جس میں قبائلی سرداروں نے شرکت کی- جرگے کے فیصلے کے مطابق کورائی قبیلے کے لوگوں کے قتل کے عوض مہروں پر تین لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ کورائی قبیلے کی تین خواتین کو اغوا کرنے پر چار لاکھ روپے ہرجانہ اور جھگڑے میں زخمی ہونے والے افراد کے لئے پچیس ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ سنایا گیا- جرگے نےمہر اور پتافی قبیلوں کے درمیان تنازع کا بھی فیصلہ کیا- دو پہر دو بجے سے رات بارہ بجے تک جاری رہنے والی اس قبائلی کارروائی میں بھی ضلع ناظم گھوٹکی سردار علی محمد مہر اور دیگر سرداروں نے شرکت کی۔ فریقین کا موقف سننے کے بعد سردار رحیم بخش بوزدار نے فیصلہ سنایا۔ جس کی رو سے مہر قبیلے پر ساڑھےسات لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ فیصلے میں پتافی قبیلے کے دو افراد اور دیگر دو کے زخمی ہونے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ سندھ کے سابق وزیر اعلٰی علی محمد مہر کے بھائی اور مہر قبیلے کے سردار علی گوہر مہر جو ضلع ناظم بھی ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک دو روز میں نجی فیصلوں کے حوالے سے حکومت ایک آرڈیننس جاری کرنے والی ہے ’جس کے بعد ہم کھل کر جرگوں کے ذریعے فیصلے کر سکیں گے‘۔ سردار رحیم بخش بوزدار کا کہنا ہے کہ سرداروں نے طے کیا ہے کہ فریقین کے درمیان تصادوں میں قتل سمیت درج ہونے والے مقدمات واپس نہیں لئے جائیں گے۔ تاہم بے گناہ لوگوں کے نام مقدمات سے خارج کروا کر شرپسندوں کو چالان کیا جائےگا۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ جرگوں کے انعقاد پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ اس ضمن میں ایک مقامی وکیل شبیر شیر کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کی سکھر بنچ میں ایک درخواست زیر سماعت ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کی جانب سے پابندی کے باوجود منعقد ہونے والے جرگوں کا نوٹس لیا جائے اور عدالت کے فیصلے پر عمل کرایا جائے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود یہ دو بڑے جرگے منقعد کئے گئے ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||