فوجی کارروائی میں ہیلی کاپٹر استعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر تربت میں مزاحمت کاروں کے خلاف فوجی کارروائی جاری ہے جس میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تربت سے کوئی پینسٹھ کلومیٹر دور گوادر شہر کی سرحد کے قریب مزاحمت کاروں کی تلاش کے لیے فوجی کارروائی میں شدت آئی ہے اور اطلاعات کے مطابق مذید کمک بھی اس علاقے میں پہنچائی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں تعینات سیکرٹری داخلہ عبدالرؤف خان نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی گڈن کے مقام پر ہو رہی ہے جہاں مزاحمت کاروں کا ایک گروہ روپوش ہے۔ گزشتہ روز کی کارروائی کے بعد مزاحمت کار اپنے اڈے سے کہیں اور منتقل ہوگئے ہیں جن کی تلاش کا کام رات جاری رہا۔ اس کارروائی میں تین سے چار ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کچھ روز سے مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے گوادر اور تربت کے کچھ علاقوں میں تلاشی کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن گزشتہ روز مزاحمت کاروں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر راکٹ اور دیگر اسلحہ سے فائرنگ کی ہے جس سے اطلاعات کے مطابق دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے نام اقبال اور سردار بتائے گئے ہیں لیکن فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا تھا کہ ان کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ان سے جب پوچھا کہ یہ مزاحمت کار کون لوگ ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ یہ شر پسند لوگ ہیں بحرحال صورتحال واضح اس وقت ہو گی جب وہ گرفتار ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنے آپ کو بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ بتاتے ہو کہا ہے کہ ان کی جھڑپ سکیورٹی فورسز سے ہوئی تھی جس میں فورسز کا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی خاطر سب کچھ کر رہے ہیں۔اور وہ اس فوجی کارروائی کا جواب صوبے کے مختلف علاقوں سے دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||