گوادر کے قریب جھڑپیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر گوادر اور تربت کے سرحدی علاقے گڈن میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور نامعلوم افراد کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں اور لیویز یعنی علاقائی پولیس کے علاوہ فوجی اہلکار مبینہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر پیر کی صبح نا معلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شر پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوجی اہلکاروں کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ آپریشن کی تفصیلات تو نہیں بتائیں گے تاہم فورسز کو جس قسم کو مدد کی ضرورت ہو گی انہیں فراہم کی جائے گی۔ فرنٹیر کور کے ترجمان کے مطابق پیر کی صبح نا معلوم افراد نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر حملے کئے ہیں جس کے بعد اس علاقے میں جہاں سے فائرنگ ہوئی تھی مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کاروائی جاری ہے۔ دریں اثنا تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق صبح ایف سی لیویز اور فوجی اہلکاروں نے گوادر اور تربت کی سرحدی علاقوں میں مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی تو نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں جنہیں سِول ہسپتال تربت لایا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ تربت اور گوادر میں موجود سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے مزید کمک اس علاقے میں بھجوائی جارہی ہے۔ تربت اور گوادر میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔ شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ گوادر اور تربت میں اہم مقامات پر تعینات حفاظتی عملے کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||