آپریشن، تربت میں بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر تربت میں جاری فوجی آپریشن میں شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ بشولی اور ارد گرد کے دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز سیکیورٹی فورسز نے بشولی اور ارد گرد کے علاقے پر ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی ہے ۔ قریبی علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ تربت سے مقامی صحافی امام بخش بہار نے بتایا ہے علاقے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے ۔انھوں نے کہا ہے کہ قریبی آبادی سے کہا گیا ہے کہ وہ کہیں اور منتقل ہو جائیں۔ اس کے علاوہ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ اس علاقے میں مزید فوج بھیج دی گئی ہےاور شدید کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ گوادر ہسپتال میں عملے کو چوکس رکھا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کے بارے میں انتظامیہ اور حکومت ارکان مکمل خاموش ہیں اور کسی قسم کی تفصیل فراہم نہیں کی جا رہی۔ دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کا نمائندہ ہے۔ آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ آج ان کے علاقے پر شدید بمباری کی گئی ہے لیکن ان کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ اس کے علاوہ جمعہ کے روز بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائد غلام محمد نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ کے ان کے دولیڈروں نصیر احمد اور حمید بلوچ کو فرنٹیئر کور نے مکران ڈویژن سے غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا ہے۔ ان لیڈروں کو نہ تو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے اور ناں ہی ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور کہاں رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تمام قوم پرست قوتیں متحد ہو کر تحریک چلائیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ تحریک جمہوری ہو گی یا مسلح تو انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن میں جہاں اتنا اسلحہ استعمال ہو رہا ہو وہاں ہر شخص آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کیسے کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||