BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 July, 2004, 00:50 GMT 05:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاسی قیدی، غیرقانونی گرفتاریاں

بلوچستان میں احتجاجی مظاہرہ
سیاسی جماعتوں نے کئی کارکنوں کی رہائی کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ سے رابطہ کیا ہے
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم نے بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس مسئلے کو تنظیم کے مرکزی اجلاس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا کہا ہے۔

آج جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئرمین طاہر محمد خان نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور نیشنل پارٹی کے قائدین نے ان سے سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی طریقے سے گرفتاریوں کے حوالے سے رابطہ قائم کیا تھا جس کے بعد تنظیم نے اپنے طور پر بھی اس کی تحقیق کی ہے اور اسے ایک تشویشناک مسئلہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے ایجنسیوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جہاں انھیں مختلف قسم کی ازیتیں دی جاتی ہیں۔

طاہر محمد خان نے بتایا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے کئی کارکنوں کی رہائی کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ سے رابطہ کیا ہے اور عدالت نے دو کارکنوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے لیکن تاحال ان احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ ان کے کئی کارکن اب تک غائب ہیں۔ ماضی میں اس طرح کارکنوں کو اٹھایا گیا ہے ان میں سے ایک کی لاش بعد میں ملی تھی۔

تنطیم نے یہ معاملہ مرکزی اجلاس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ طاہر محمد خان نے کہا ہے کہ کارکنوں کی اس طریقے سے گرفتاری کا سلسلہ گیارہ ستمبر کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ کے کہنے پر افغانیوں کو اٹھا لیا جاتا تھا جن کا کو ئی پرسان نہیں تھا اب وہی طریقہ مقامی افراد اور شہریوں پر استعمال ہو رہا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ایک غیر قانونی اور اور غیر آئینی فعل ہے اور شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وہ نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کی اصلاح کی اپیل کرتے ہیں۔

اس بارے میں جب کوئٹہ میں محکمہ داخلہ کے ترجمان سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ جو گرفتاریاں ہوئی ہیں وہ قانون کے دائرے کے اندر کی گئی ہیں اور ان افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر بم دھماکوں اور راکٹ فائرنگ جیسے واقعات میں ملوث ہونے کا شک پایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اور پونم کے رہنما سابق وزیرِ اعلی سردار اختر مینگل نے انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئرمین کو ایک یادداشت پیش کی تھی اور گزشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کے کارکنوں کو گرفتار کرکے انھیں ازیتیں دی جا رہی ہیں جس کے لیے وہ قانونی اور جمہوری طریقے سے جنگ لڑ ررہے ہیں لیکن اگر مقتدر قوتوں نے انھیں دیوار سے لگانے کی کو شش کی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد