’سامان ہے، ترسیل کے ذرائع نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ آگے بڑھو، زلزلے زدگان کی مدد کرو‘ یہ اعلان کراچی کی ہر اہم سڑک اور چوراہے پر گزشتہ تین دن سےگونج رہا ہے۔ کشمیر، پنجاب اور سرحد کے علاقوں میں زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے کراچی میں بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پاکستان فوج، رینجرز، پیرا میڈیکل، ایدھی فاؤنڈیشن اور منہاج القرآن فاؤنڈیشن کی طرف سے بھی کیمپ لگائے گئے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بھی زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اعلانات کیے جارہے ہیں اور ہر ادارے کی جانب سے اس کڑی وقت میں مدد کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر متاثرین کی حالات زار دیکھنے کے بعد لوگوں نے دل کھول کر امداد دی ہے جس وجہ سے یہ کیمپ سامان سے بھر گئے ہیں مگر اب اس سامان کو متاثرین تک پہنچانے میں دقت درپیش آرہی ہے۔
سندھ حکومت کے محکمہ اطلاعات کے مشیر صلاح الدین حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں نے اتنا سامان دیا ہے جو اب ’سرپلس‘ ہوگیا ہے۔ بہت سامان فیصل ائر بیس پر پڑا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سامان کی ترسیل میں دشواری پیش آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے امدادی فنڈ میں پانچ کروڑ روپے کے عطیے کا اعلان کیا تھا اور اس کے علاوہ سامان سے بھرے ہوے کئی ٹرک بھی بھیجے گئے ہیں۔ جن پر موجود امدادی اشیاء میں خشک راشن، کپڑے اور ادویات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بھی بھیج دی گئی ہے جبکہ مزید سامان بھیجا جا رہا ہے۔ سندھ رینجرزکے ترجمان کیپٹن عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ عوام نے بہت سامان امداد میں دیا ہے اور ہم پندرہ ٹرک بھیج چکے ہیں جبکہ ایک سی ون تھرٹی طیارہ آج پہنچ رہا ہے جس میں بقیہ سامان بھیجا جائے گا جبکہ کچھ سامان ٹرین کے ذریعے بھی بھیجا جا رہا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان ریاض الدین نے بتایا کہ لوگ دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں۔ ہم لاتعداد سامان بھیج چکے ہیں اور مزید تین ٹرالر بدھ کے روز روانہ ہوں گے۔ جس کے بعد روزانہ دو ٹرالر روانہ کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں بلیو ایر کی جانب سے فری کارگو سروس فراہم کی جا رہی ہے جس میں ہم سامان بھیج رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز سے محمد حسن نے بتایا کہ وہ ایک سی ون تھرٹی طیارے میں سامان بھیج چکے ہیں جبکہ کچھ سامان آج رینجرز کی مدد سے دوسرے سی ون تھرٹی میں روانہ ہو جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی بہت بڑی تعداد میں سامان موجود ہیں مگر بھیجنے کے لیے ذرائع نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے رہنما کلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا دفتر سامان سے بھرا ہوا ہے جس میں سامان کی پیکنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے اب تک سامان سے بھرا ایک چارٹر جہاز روانہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے سامان مل رہا ہے اسی رفتار سے بھیجا جارہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||