| | باغ میں امداد پہنچ تو رہی ہے مگر تباہی کو دیکھتے ہوئے ناکافی ہے |
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا ضلع باغ بھی شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ اس زلزلے کے نتیجے میں نہ صرف باغ اور گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے بلکہ زندہ بچ جانے والے افراد بھی اپنے کل اثاثے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ باغ میں حالیہ بارشوں کے بعد سرد موسم کی شدت نے بھی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے اور خدشہ ہے کہ جو لوگ زلزلے کی تباہ کاریوں کا شکار ہونے سے بچ گئے ہیں وہ کہیں شدید موسمی حالات کا شکار نہ ہو جائیں۔ متاثرہ علاقے میں اگرچہ امدادی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں اور خوراک، گرم کپڑوں، ادویات اور دیگر امدادی اشیاء پر مشتمل سامان علاقے میں پہنچ رہا ہے لیکن یہ سامان متاثرین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ باغ کی مزید کہانیاں پڑھنے اور تصاویر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں باغ میں انسانی جان کا ضیاع مظفر آباد سے کم ہے اس کی شاید وجہ گھروں کی بناوٹ ہے۔ مظفر آباد میں تباہ ہونے والے گھروں کی اکثریت اینٹوں اور سمینٹ سے بنی ہوئی تھی جبکہ باغ میں اکثر گھر لکڑی سے بنے ہوئے ہیں۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے علاقے کا بیشتر حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور بڑے پیمانے پر افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ |