ٹونی بلیئر 27 جون کو استعفیٰ دینگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپنے دس سالہ اقتدار کے بعد برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستائیس جون سے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کا اعلان ٹونی بلیئر نے جمعرات کے روز شمالی مشرقی انگلینڈ میں اپنے انتخابی حلقے سیجفیلڈ کے خصوصی دورے پر کیا۔اس موقع پر لیبر پارٹی کے لگ بھگ تین سو کارکن موجود تھے۔ ٹونی بلیئر نے اس اعلان سے قبل جمعرات کی صبح اپنی کابینہ کے اراکین کو وزارت عظمیٰ اور لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفیٰ ہونے کی تاریخ کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے اس اعلان کے بعد لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے دوڑ شروع ہوجائے گی۔ ٹونی بلیئر لیبر پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب تک وزیراعظم کے عہدے پر قائم رہیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ چانسلر گورڈ براؤن لیبر پارٹی کے رہنما بننے میں کامیاب رہیں گے جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ٹونی بلیئر نے سن 1997 میں لیبر پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے وزیر اعظم کا عہدے سنبھالا تھا لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران، خصوصی طور پر جنگِ عراق کے تنازعے پر، ان کی شخصیت متنازعہ بن گئی تھی۔
ٹونی بلیئر نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے دور میں برطانیہ نے غربت اور گلوبل وارمِنگ کے معاملات پر دنیا کو قیادت فراہم کی ہے۔ حالیہ برسوں میں وزیراعظم بلیئر پر عوامی دباؤ رہا ہے کہ وہ جنگِ عراق جیسے معاملات پر اپنی ’غلطیوں‘ پر معافی مانگیں۔ جمعرات کو اپنے استعفے کا اعلان کرتے وقت ٹونی بلیئر برطانوی عوام سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ وہ ’معذرت‘ چاہتے ہیں کہ بعض معاملات پر وہ عوامی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ جب سن 1997 میں اقتدار میں آئے تھے اس وقت عوام کی ان سے بڑی توقعات تھیں۔ بلیئر نے کہا کہ یہ دوسروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا انہوں نے غلطیاں کیں۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ انہوں نے وہی کیا جسے انہوں ’اچھا‘ سمجھا۔ ٹونی بلیئر کے آج کے بیان کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ وہ برطانوی پارلیمان سے اپنی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اعلان سے قبل ان کے انتخابی ایجنٹ اور ان کے قریبی دوست جان برٹن نے اپنی اس امید کا اظہار کیا کہ کو اگر ٹونی بلیئر کو کوئی اہم عالمی عہدہ نہیں ملا تو وہ آئندہ الیکشن تک ایم پی رہیں گے۔
سیاس مبصرین کا خیال ہے کہ چانسلر گورڈن براؤن کا لیبر پارٹی کا رہنما بننا لگ بھگ یقینی ہے۔ گورڈن براؤن کو ان کا حریف سمجھا جاتا رہا ہے اور بعض اوقات ان کے باہمی تعلقات رشتوں میں ایک ’خاموش تلخی‘ بھی محسوس کی گئ۔ وزیراعظم بلیئر کے ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب ٹونی بلیئر نے اپنی کابینہ کو اپنے استعفیٰ کی تاریخ کے بارے میں بتایا تو گورڈن براؤن نے بلیئر کی دس سالہ قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ مسٹر براؤن نے کہا کہ ٹونی بلیئر نے لیبر پارٹی، برطانیہ اور دنیا کو ’اہم قیادت‘ فراہم کی۔ اب امید کی جارہی ہے کہ جولائی کے آتے آتے برطانیہ میں ایک نیا وزیراعظم ہوگا۔ اگرچہ گورڈن براؤن کا وزیراعظم بننا یقینی لگتا تاہم لیبر پارٹی میں انتہائی بائیں بازو کی اراکین کی جانب سے انہیں چیلنج ہوسکتا ہے۔ لیبر پارٹی کے نئے رہنما کا الیکشن کرانے کے لیے ایک امیدوار کو پارٹی سے تعلق رکھنے والے کم سے کم 45 اراکین پارلیمان کا دستخط ضروری ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ پارٹی کے نائب رہنما کے لیے متعدد امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے۔ برطانیہ میں حزب اختلاف کنزرویٹِو پارٹی کے رہنما ڈیوِڈ کیمرون نے کہا ہے کہ لیبر پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب تک ملک کو ’ہفتوں کی غیریقینی‘ کا سامنا ہے۔ دوسری اپوزیشن جماعت لِبرل ڈیموکریٹز نے پارلیمان میں ایک تحریک پیش کی ہے جس میں ملکۂ برطانیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پارلیمان تحلیل کرکے عام انتخابات کا اعلان کریں۔ |
اسی بارے میں ’ایک سال اور مگر تاریخ نہیں‘07 September, 2006 | آس پاس ’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘26 September, 2006 | آس پاس عراق پر ٹونی بلیئر کا اعتراف18 November, 2006 | آس پاس ’بلئیر بش پر اثر انداز نہ ہو سکے‘19 December, 2006 | آس پاس جوہری نظام پر بلیئر کی سفارشات04 December, 2006 | آس پاس ’انتہا پسندی کی کمان سے ہوشیار‘02 August, 2006 | آس پاس ایم فائیو کا انتباہ حقیقی ہے: بلیر10 November, 2006 | آس پاس عالمی اداروں میں اصلاحات: بلیئر27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||