ایم فائیو کا انتباہ حقیقی ہے: بلیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر نے کہا ہے کہ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو نے برطانوی مسلمانوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے جس خطرے کا انکشاف کیا ہے وہ حقیقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایم آئی فائیو کے جائزے کی تائید کرتے ہیں اور واقعی برطانیہ کو دہشت گردی کے ایسے کثیرالجہتی منصوبوں کا سامنا ہے جو برطانوی مسلمان نوجوانوں کے ذہن میں زہریلے پروپیگنڈے کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں۔ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کی سربراہ نے کہا تھا کہ 1600 سے زیادہ برطانوی مسلمان دہشت گرد منصوبوں میں ملوث ہیں اور ان کے ادارے کو ایسے کم از کم تیس منصوبوں کا علم ہے۔ ڈیم ایلیزا مینِنگھم بلّر نے کہا کہ بڑا خدشہ اب یہ بھی ہے کہ آئندہ کے دہشت گرد منصوبوں میں کیمیائی یا جوہری مواد استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان میں سے بہت سے منصوبوں کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’یہ خطرہ ایک نسل سے زیادہ کا ہے‘۔ ڈین ایلیزا نے متنبہ کیا ہے کہ خطرہ ’سنجیدہ‘ اور ’بڑھتا ہوا‘ ہے۔ ایم فائیو کی نفری نائن الیون کے بعد سے دوگنا کی جا چکی ہے اور اب یہ تعداد دو ہزار آٹھ سو افراد پر مشتمل ہے۔ خفیہ ادارے کی سربراہ نےکہا کہ دہشت گردی کے کچھ منصوبے کامیاب بھی ہو سکتے ہیں اور یہ خطرہ ایک نسل سے زیادہ تک برقرار رہ سکتا ہے اور افرادی قوت بڑھنے کے باوجود ایم فائیو تمام مشکوک سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وسائل پر توجہ دینی ہو گی اور بقول ان کے ’کاش زندگی ٹی وی سیریل سپوک کی طرح کی ہوتی جس میں چھ افراد ہر چیز کو جان اور نمٹا سکتے۔ خفیہ ادارے نے یہ بریفنگ لندن سے تعلق رکھنے والا ایک نو مسلم دھیرن باروٹ کے مقدمے کے اختتام کے تین دن بعد دی تھی۔ دھیرن باروٹ کو لندن پر حملوں کے کئی منصوبے تیار کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس برطانوی مسلمانوں سے امتیازی سلوک07 August, 2006 | آس پاس برطانوی مسلمان کو امریکہ نے روک دیا15 July, 2005 | آس پاس برطانوی مسلمانوں کی امن کی دعا09 July, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||