BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 April, 2006, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پروفیسرمعافی مانگیں‘ مسلم تنظیم

مشیگن سٹیٹ یونی ورسٹی
مشیگن سٹیٹ یونی ورسٹی
امریکہ میں مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی کی ’مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن‘ کا کہنا ہے کہ جس پروفیسر نے ان کو نفرت بھری ای میل بھیجی ہے انہیں تنظیم سے معافی مانگنی چاہیے اور یونیورسٹی کو انہیں کھلے عام سرزنش کرنی چاہیے۔

یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئیرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر انڈرک وکمین نے پچھلے ماہ مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کو ایک ای میل میں غیر مطمئن، جارح، ظالم، غیر تہذیب یافتہ اور ’غلاموں کی خرید و فروخت کرنے والے مسلمان‘ کہا تھا۔

ای میل میں مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے ممبران سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر انہیں آزادی اظہار کی مغربی اقدار پسند نہیں تو وہ امریکہ چھوڑ کر اپنے ’آبائی وطنوں کو لوٹ جائیں اور امریکیوں کو تنگ کرنے کے بجائے خود ان کی تعمیر کریں۔‘

جب امریکہ میں مسلمانوں کے حقوق کی تنظیم کئیر کے حوالے سے یہ خبر پِٹسبرگ یونیورسٹی کے طالب علم وحیت سیمیتوگلو کو پہنچی تو انہوں نے ڈاکٹر وکمین کو احتجاجاً ای میل بھیجی۔ مسٹر سیمیتوگلو کا کہنا ہے کہ ایک پروفیسر کا کام نوجوانوں کی تعلیم ہے اور ایسے شخص کو خصوصاً بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر وکمین نے انہیں جواباً ای میل بھیجی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے غصے میں ای میل بھیجی تھی اور اس میں نا مناسب زبان استعمال کی تھی۔ انہوں نے مسٹر سیمیتوگلو اور ’ان لوگوں سے جن کی میں نے دل آزاری کی ہو‘ معافی مانگی اور کہا کہ یہ ان کی ذاتی ای میل تھی جو انہوں نے ایک نجی تنظیم کو بھیجی تھی اور ان کا یہ مقصد نہیں تھا کہ یہ ای میل عام ہو جائے۔

 یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئیرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر انڈرک وکمین نے پچھلے ماہ مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کو ایک ای میل میں غیر مطمئن، جارح، ظالم، غیر تہذیب یافتہ اور ’غلاموں کی خرید و فروخت کرنے والے مسلمان‘ کہا تھا۔

مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چونکہ ای میل انہیں بھیجی گئی تھی اس لیے معافی بھی انہی سے مانگنی چاہیے۔ ایک دوسرے شخص سے معافی ایک مثبت قدم ہے مگر یہ کافی نہیں۔

تنظیم کے مطابق اس پورے تنازعے کا آغاز تب ہوا جب وہ یونیورسٹی میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں پر لوگوں میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ڈاکٹر وکمین نے ای میل میں کہا کہ ان کی دل آزاری چند کارٹونوں سے نہیں ہوتی بلکہ ’عام شہریوں کے سر قلم کیے جانے، عمارات پر بزدلانہ حملوں، خود کش قتل، عیسائی راہبوں کے قتل (حالیہ ترکی میں)، گرجا گھروں کو جلانے، مصر میں کوپٹک فرقے کے عیسائیوں پر مسلسل جبر‘ جیسے واقعات سے ہوتی ہے۔

سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے صدر فرحان عبدالعزیز کے مطابق انہوں نے یہ ای میل ملتے ہی یونیورسٹی حکام سے رابطہ کر کے فوری میٹنگ کی درخواست کی لیکن یونیورسٹی نے انہیں تین ہفتے بعد جواب دیا کہ ڈاکٹر وکمین کی رائے، یونیورسٹی کی رائے کی نمائندگی نہیں کرتی۔

مشیگن یونیورسٹی کے ترجمان ٹیری ڈنبو کے مطابق اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ڈاکٹر وکمین کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ اگرچہ ان کی موجودہ ای میل تعصب کے خلاف یونیورسٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتی لیکن مستقبل میں اس طرح کی کوئی بھی خط و کتابت ’اس پالیسی کے تحت ان کے خلاف شکایت کا باعث بن سکتی ہے۔‘

مسٹر ڈنبو کے مطابق اگرچہ کچھ لوگ ڈاکٹر وکمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن انہیں امریکی آئین کے تحت اپنی رائے کے اظہار کی آزادی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی مسلسل مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن سے مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کا یونیورسٹی سے مطالبہ ہے کہ وہ اسلامی ثقافت سے آگاہی پھیلانے میں مسلم سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی پشت پناہی کرے اور نفرت اور تعصب کے خلاف طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی کی تربیت کرے۔ خاص طور پر نئے طالب علموں کے لیے اس سلسلے میں سیمینار کو ضروری قرار دیا جائے۔

مسٹر عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس سال یونیورسٹی میں طالب علموں کے درمیان تعصب کے بائیس واقعات سامنے آئے۔ کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے نئے طلبہ و طالبات کے لیے سیمینار خاص کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق وہ پہلے ہی اس قسم کی تربیت پر کافی زور دیتے ہیں۔

امریکہ میں شہری حقوق کی تنظیم امیریکن سول لبرٹیز یونین کی مشیگن برانچ نے بھی اس پورے معاملے کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

برطانوی مسلمانوںمشکلات میں اضافہ؟
برطانوی مسلمانوں کے خلاف حملے: آپ کی رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد