BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے’مسلمان‘اور’لِبرل مسلمان‘

امریکہ میں رہنے کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں پانچ وقت آذان کی آواز نہیں آتی۔ پاکستان میں گھر تو مسجد کے ساتھ ہی تھا، مؤذن آذان دیے جارہا ہے، آپ لاکھ کہیں کہ مجھے فلاں کام ہے، فلاں جگہ جانا ہے، مگر وہ تو سن ہی نہیں رہا، کانوں میں انگلیاں ڈالیں: ’حی علی الصلاح ۔حی علی الفلاح‘ پکارے جارہا ہے اور کچھ نہیں سن سکتا، تو مسجد جانا ہی پڑتا تھا۔ جب سے امریکہ آیا ہوں وہ آذان کا سلسلہ بند ہوگیا ہے اور بہت اداس کرتا ہے۔

وطن عزیز میں ہوش سنبھالا تو مسلمانوں کے بہت سے فرقے، گروپ نظر آئے، کوئی بریلوی کہلایا تو کوئی دیوبندی، کوئی سنی تو کوئی شیعہ، کوئی ہری پگڑی والا تو کوئی سفید کرتے والا، کوئی نذر نیاز کا پابند تو کوئی درگاہوں پر جانے سے منکر وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس طرح پیارے نبی (ص) کی ساری سنتیں جاری و ساری ہیں اور نماز روزے، حرام حلال، ختم نبوت پر کم و بیش سب ہی متفق نظر آئے۔ امریکہ آکر سارے مسلمان صرف دو گروپ میں نظر آئے: ایک ’مسلمان‘ اور دوسرے ’لِبرل مسلمان‘۔

’مسلمان ‘ اپنی قومی اور اسلامی روایات کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مگن تو ’لِبرل مسلمان‘ اپنے آپ کو انگریز ثابت کرنے پر تلے ہوئے، جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ دین پر بحث کرنا خواہ کچھ پتہ ہو یا نہ ہو، ہم مسلمانوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے۔ لہذا ہر دعوت اور گیدرِنگ میں یہ دونوں گروپ ایک دوسرے سے بحث میں مصروف نظر آتے ہیں۔

پہلا گروپ اپنے پاکستانی یا انڈین اور مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے اور اسلام کی وجہ سے نوکری یا تعلیم میں پیش آنے والی مشکلات کو جہاد جانتا ہے۔ دوسرا گروپ حلال و حرام کے چکر سے بےنیاز شلوار قمیض اور داڑھی کو برا بھلا کہتے ہوئے پایا گیا ہے۔ یہ گروپ شراب سے لیکر خنزیر تک اور انگریزی نام رکھنے سے لیکر غیرمسلم میں شادی تک ہر چیز کو جائز سمجھتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے تو اپنے بچوں کے نام بھی ڈیوِڈ، جیکب، وغیرہ رکھے ہوئے ہیں، نام اور عادات سے ان کی شناخت جو ان کے لئے شرم کا باعث ہے چھپی رہے۔ ان کے لئے امریکہ ایک جنت ہے اور یہ اس کے خلاف کچھ نہیں سن سکتے، یہ لوگ آپ کو اکثر یہ کہتے نظر آئیں گے کہ:

’تمہارے پاکستان کا کیا ہوگا؟‘
’یہ مولوی کہاں لے جارہے ہیں تمہاری نسل کو؟‘
’میں تو پاکستان جاکر آلودگی اور گندے پانی سے تنگ آجاتا ہوں۔ (بھلے پاکستان میں تیس سال گزارے ہوں۔)

میں ایسے میں صرف ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ اگر یہ ’ہمارے‘ کی بجائے ’تمہارا‘ پاکستان ہے تو آپ فکر نہ کریں، جیسے کہ دنیا میں موجود باقی سینکڑوں ممالک کی آپ بات نہیں کرتے تو بےچارے پاکستان کو ہی ہر بار بحث میں کیوں کھینچ لیتے ہیں۔ جب آپ کو یہی نہیں پتہ کہ مولوی ہوتا کیا ہے، کیسے بنتے ہیں تو ان کو گالیاں اور برا بھلا کہنے کا حق بھی نہیں آپ کو۔

ایک بار ایک دعوت میں ایک انگریز نے پوچھا کہ مجھے ’اللہ کی پِکچر دکھاؤ‘ وہ سمجھ رہا تھا کہ رام، رادھا کی طرح ہمارے پاس بھی اللہ کی مورتی یا پِکچر ہوتی ہے۔ مگر اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی جب مسجد میں موجود مسلم والدین کے مسلم بچوں نے اعتکاف، شب برات اور شب معراج، کے ناموں سے قطعی لاعلمی ظاہر کی، انہیں کوئی آئڈیا نہیں تھا کہ یہ چیزیں کیا ہوتی ہیں، نہ ہی ناموں کا، نہ ہی ان کے پیچھے موجود کنسیپٹ کا۔

لیکن جہاں گیارہ ستمبر کے اتنے سارے نقصانات ہوئے، وہاں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس واقعے نے مسلمانوں کے دونوں گروپوں کو بہت قریب کردیا۔ جو لوگ طرح طرح سے اپنے آپ کو مسلمان نہ ظاہر کرنے میں لگے ہوئےتھے وہ جان گئے کہ وہ آخرکار مسلمان ہی ہیں اورغیراقوام کبھی بھی انہیں ایکسیپٹ کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو بہت سے نے فلاح اسی میں پائی کہ اپنی دنیا کو ہی لوٹ جائیں اور اب دوسرے گروپ کے بھی بہت سے افراد مسجد اور اس سے متعلق کاموں میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ امریکہ کے مسلمان جتنے گیارہ ستمبر کے بعد متحد ہوئے ہیں، سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر اتنے وہ امریکہ کی تاریخ میں کبھی نہیں تھے۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسبہ بل: ایم ایم اے کی سیاست؟اسلام اور سیاست
حسبہ بل: ایم ایم اے کی سیاست؟
مدرسوں کی حالت
مدرسے فکری سطح پر دور جدید سے دور
پاکستانمعاشی ترقی کی طاقت
’جوہری طاقت سے زیادہ اقتصادی ترقی اہم ہے‘
 پاکستان پاکستان کا دفاع
سیاسی جماعتوں سے پارٹنرشِپ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد