ایٹمی طاقت کا جنون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نہیں کہتا کہ ایران اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بننا چاہیے یا نہیں۔ لگتا یوں ہے کہ ہم دیکھا دیکھی ایٹمی طاقت بننے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ایٹمی طاقت کو ہی سب نے سب سے بڑی طاقت سمجھ لیا ہے۔ ہم اکثر سوال کرتے ہیں کہ امریکہ خود تو ایٹم بم بنا رہا ہے اور ہم کو روک رہا ہے۔ وہ بنا سکتا ہے۔ ہم کس باغ کی مولی ہیں؟ ہمارے سماجی، معاشی اور معاشرتی حالات کیا ہیں؟ ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ کبھی ہم نے اپنے تعلیمی میعار اور شرح خواندگی پر غور کیا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جن کو تین وقت کی دال روٹی ہی دستیاب نہیں۔ کتنے ننھے بچے صرف معیاری صحت کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔۔۔ ہم اکثر یہی سوچتے رہتے ہیں کہ امریکہ جوہری طاقت ہے تو ہمیں بھی ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے کبھی اس کی اقتصادی طاقت پر بھی غور کیا ہے؟ امریکہ پہلے ایک معاشی طاقت بنا اور پھر ایٹمی پاور۔ وہاں عوام خوش حال ہیں۔ ہر چیز کی فراوانی ہے۔ شخصی اور قومی سطح پر امریکی خوش حال ہیں۔ ہمارے ملک میں ادویات اور دوسری چیزیں تو دور کی بات ہے، صاف پانی تک نہیں ملتا۔ اور دنیا ’منرل واٹر‘ پیتی ہے۔ جنوبی کوریا کو ہی لے لیں۔ ان کے پاس ایٹم بم نہیں مگر اقتصادی طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں کسی ملک سے کم نہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب کورین روزی کی تلاش میں مشرق وسطی میں مارے مارے پھرتے تھے، اور اب مشرق وسطی کیا سارے جنوبی ایشیائی یہاں قانونی یا غیر قانونی طور پر روزگار کی تلاش میں آنے کو ترستے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک جانے کے لیے کورین شہریوں کو ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں تو بنگلہ دیش والے بھی اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتے، باقی دنیا کی تو بات ہی نہیں۔ ہمارے لوگ میں کتنے لوگ ہیں جن کے پاس کریڈٹ کارڈ تو کیا، اپنا بینک اکاؤنٹ تک نہیں، اور یہاں جنوبی کوریا میں بچے بچے کے پاس کریڈٹ کارڈ تو کیا دنیا کی ہر چیز جو امریکہ، کینیڈا اور سوٹزرلینڈ جیسے ممالک کے پاس ہے، دستیاب ہے۔ ہمارے کتنے لوگ ہیں جو بیرون ممالک میں صرف اس لیے فیکٹریوں سے باہر نہیں نکلتے کہ کہیں ان کو کوئی پکڑ کر ان کے اپنے ہی ملک، جو ماں کی حیثیت رکھتا ہے، واپس بھیج دے گا۔ یہ کیسا خوف ہے؟ ہم اپنے ملک اور گھر جانے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ ہم اپنے ہی ملک میں شام ہوتے ہی باہر نکلنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟ ہمارے ملک میں کتنے لوگ ہر روز شام کو کھانا کھائے بغیر فٹ پاتھوں پر ہی سو جاتے ہیں؟ خوش حالی اگر خدا کی نعمت اور بھوک اگر خدا کی لعنت ہے تو ہم ہی کیوں بھوکے ہیں؟ ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی ہے؟ ہم ایٹمی طاقت بننا چاہتے ہیں، مگر پہلے ہمیں اپنی معاشی طاقت کا اندازہ لگانا ہوگا۔ خدا ہمارے لوگوں کے موجودہ حالات پر رحم کرے، مگر یہ بھی تو ایک سچائی ہے: نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||