مقصود عبداللہ کویت |  |
 |  بعض نے حسبہ بل کو جمہوریت کے منافی قرار دیا |
صوبہ سرحد پاکستانی فیڈریشن کا ایک یونِٹ ہے۔ تمام صوبے ایک یونٹ میں بندھے ہوئے ہیں جس کا نام اسٹیٹ آف پاکستان ہے اور اسے ایک آئین کے تحت چلایا جاتا ہے۔ واضح بات ہے کہ ایک یونِٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ایسے قوانین بنائے جن کی آئین کےتحت جگہ نہیں۔ لہذا صوبہ سرحد کو کوئی حق نہیں ہے کہ ایک ایسا قانون بنائے اور نافذ کرے جس کے لئے فیڈریشن اور آئین کے تحت جگہ نہیں ہے۔ آئین کے لحاظ سے حسبہ بِل غیرقانونی ہے۔ اگر ایم ایم اے کی حکومت اسلامی قوانین پر عمل کرنے میں مخلص ہوتی تو وہ ایسا اپنی حکومت کے آغاز میں کرتی، نہ کہ تین سال دور حکومت پوری کرنے کے بعد۔ اب انہیں اس بات کی مہک لگ گئی ہے کہ نئے انتخابات قریب آرہے ہیں، لہذا وہ اسلام کو حسبہ بِل کے ذریعے سیاست کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا مقصد اسلام سے محبت نہیں بلکہ سیاسی طاقت حاصل کرنا ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت خواتین کو سیاست میں لانے کی مخالفت کرتی ہے۔ وہ دفاتر، سڑکوں اور بازاروں سے بھی خواتین کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن جب انہیں خود مواقع ملے تو ایم ایم اے کے مذہبی رہنماؤں نے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اسمبلیوں میں پہنچادیا۔ اسلام کے آغاز سے ہی، اور حضرت محمد (ص) کی زندگی میں بھی، تمام مذاہب کو مکہ میں اپنی پیروی کرنے کی اجازت تھی۔ مدینہ میں اقتدار میں آنے کے باوجود بھی مسلمانوں نے غیرمسلموں کو ان کے مذہب کی پیروی کرنے سے نہیں روکا، کسی کو مذہبی بنیاد پر ہلاک نہیں کیا، خدا نے کہا ہے کہ دو راستے ہیں: صحیح یا غلط اور تہمارے پاس کامن سینس ہے کہ صحیح یا غلط راستہ اختیار کرو لیکن جو غلط راستے پر چلے گا اسے سزا ملے گی۔ حسبہ بِل ایک سیاسی اسٹنٹ ہے، اور کچھ نہیں۔ ہمیشہ کی طرح ایم ایم اے ملک میں ٹینسن پیدا کررہی ہے اور معاشرے کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ ایم ایم اے کے سربراہ کے لڑکے لڑکیاں حسبہ بلِ سے کیا فائدہ حاصل کریں گے جب ہو امریکہ کی لِبرل سوسائٹی میں رہ رہے ہیں؟ فیڈرل گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس قانون کو روکے ہی نہیں بلکہ ایم ایم اے کی گورنمنٹ کو برخاست کردے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |