نو مسلم برطانوی کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور امریکہ میں متعدد بم دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کے جرم میں القاعدہ کے مبینہ رکن دھیرن باروت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ چونتیس سالہ دھیرن باروت کا تعلق لندن سے ہے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ ہندو تھے۔ لندن کی ’وولچ کراؤن کورٹ‘ نے باروت کو کم از کم چالیس سال تک حوالات میں بند رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے قبل باروت نے قتل کی سازش کرنے کا اعتراف کر لیا تھا۔ اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے وکیلِ استغاثہ، ایڈمنڈ لاسن نے عدالت کو بتایا کہ باروت امریکہ اور برطانیہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا چاہتے تھے۔ دھیرن باروت بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں امریکہ اور یمن کو بھی مطلوب ہیں۔ باروت پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی شہر واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی عمارتوں، نیویارک سٹاک ایکسچینج اور نیو جرسی میں سٹی گروپ اور پروڈینشل بینکوں کے صدر دفاتر کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لندن کی زیرِ زمین ریلوں کی سرنگوں میں ایسے مقامات پر دھماکے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جو دریا کی تہہ میں تھے تاکہ دریا کا پانی سرنگوں میں بھر آئے۔ ان کے منصوبے ایک لیپ ٹاپ میں محفوظ دستاویز میں ملے تھے اور یہ لیپ ٹاپ جولائی دو ہزار چار میں پاکستان کے شہر گجرات میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران پولیس کو ملا تھا۔
وکیلِ استغاثہ، ایڈمنڈ لاسن نے عدالت کو بتایا کہ سکیورٹی کے ادارے بہت تفتیش کے بعد ایسے شواہد اکھٹے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان سے ملنے والی انتالیس صفحات پر مشتمل دستاویز باروت ہی نے تیار کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’دستاویز کی تحریر سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کو دکھانے کے لیے تیار کی گئی تھی تاکہ انہیں قائل کرکے ان منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے القاعدہ سے مالی مدد حاصل کی جا سکے اور دھماکہ خیز مواد خریدا جا سکے‘۔ باروت کو اگست دو ہزار چار میں ان کے سات ساتھیوں سمیت لندن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اس منصوبے سے لاعلم تھے۔ | اسی بارے میں القاعدہ: کمپیوٹر انجنیئرگرفتار02 August, 2004 | پاکستان ’الرٹ سے پاکستان کا تعلق نہیں‘04 August, 2004 | پاکستان ’القاعدہ کا ایک اور اہم رکن گرفتار‘03 August, 2004 | پاکستان گجرات:القاعدہ کے خلاف اپریشن جاری25 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||