برطانیہ میں مسلمان بیروزگار و پسماندہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کی جانب سے تیار کروائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی مسلمان بھی کم و بیش دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح نسبتاً زیادہ بے روزگار ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ملک کے انتہائی پسماندہ علاقوں کے بوسیدہ گھروں میں رہتی ہے۔ برطانیہ کے مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے بارے میں تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق 25 سال سے زائد عمر کے صرف 50 فیصد مسلمان اور 29 فیصد مسلم خواتین سرکاری طور پر بر سر روزگار ہیں۔ جب کہ بالعموم لوگوں کو یہ تناسب سڑسٹھ فی صد بتایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندو تین مذہبی اقلیتوں پر مشتمل اس جائزے میں سکھوں اور مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہیں۔ بی بی سی کے لیے مذہبی امور کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں کے ملازمتوں میں صرف تیئیس فی صد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کچھ مسلمان برادریاں قدامت پسندانہ تصورات رکھتی ہیں۔ | اسی بارے میں برطانوی مسلمان مدد کے لیے تیار10 October, 2005 | آس پاس برطانوی مسلمان کو امریکہ نے روک دیا15 July, 2005 | آس پاس برطانوی مسلمانوں کی امن کی دعا09 July, 2005 | آس پاس برطانوی مسلمانوں کی تشویش31 March, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||