برطانوی مسلمان مدد کے لیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور کشمیر میں ہفتے کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری باشندوے لگاتار اپنے خاندان والوں کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ رابطے کی ان کوششوں کے ساتھ ساتھ اس آفت سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے چندہ اکھٹا کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ متاثرہ علاقے میں سرد موسم کی بناء پر گرم کپڑوں، کمبلوں اور اشیائے خورونوش کی قلت ہے اور اس کے لیے برطانوی مسلمانوں سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ برمنگھم سے تعلق رکھنے والی ایک خیراتی تنظیم اسلامک ریلیف کی جانب سے دو ملین پاؤنڈ مالیت کی امدادی اشیاء پاکستان روانہ کر دی گئی ہیں۔ تنظیم کے ترجمان وسیم یعقوب نے بتایا کہ ’ہم پہلے ہی دو ملین پاؤنڈ مختص کر چکے ہیں اور ایمرجنسی مدد کے لیے خوراک، کمبل اور ادویات مہیا کر رہے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ برطانیہ کا پاکستان سے ایک خصوصی رشتہ ہے اور پندرہ لاکھ برطانوی باشندوں کا اس خطے سے تعلق ہے جن میں سے زیادہ تر کسی نہ کسی طرح سے اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں‘۔ کینٹ مسلم ویلفئیر ایسوسی ایشن کے عظیم نادر کا کہنا تھا کہ’ خبر ملتے ہی لوگوں نے اپنے رشتہ داروں سے رابطے کی کوشش کی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے ذاتی نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ امدادی رقوم بھی بھیج رہے ہیں۔ ناٹنگھم میں جہاں بارہ ہزار پاکستانی رہائش پذیر ہیں زلزلے کے متاثرین کے لیے ایک ویلفیئر فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ مدد کی اپیل کرتے ہوئے مقامی کونسلر محمد منیر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے‘۔ برطانیہ کی جنوب مغربی آبادی ہیومینٹی فرسٹ نامی خیراتی تنظیم کے ذریعے اپنی امداد بھیج رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||