BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 May, 2006, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرہ: یورپ بمقابلہ مسلمان

متنازعہ کارٹونوں کے خلاف بیروت میں مظاہرہ
پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ کارٹونوں سے پیدا ہونے والی خلیج کم کرنے کے لیے اسی ماہ جنوبی انگلینڈ میں یورپ اور مسلم دنیا کے رہنماؤں نے گفتگو کی۔ ایک مسلم سفارت کار نے کہا: ’کوئی اعتماد باقی نہ رہا۔ ڈائیلاگ ناکام رہا ہے۔ ہمیں تاریخ ساز مفاہمت کی ضرورت ہے۔‘

یورپی اخباروں میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت سے مسلمانوں کے اندر غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور ’تہذیبوں کے تصادم‘ کی وارننگ دی جانے لگی تھی۔ حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے او آئی سی یعنی آرگنائزیشن آف اسلامِک کانفرنس نے دو دن کے مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں سمیت مسلم اور غیرمسلم صحافی، حقوق انسانی کے کارکن اور ماہر تعلیم شامل ہوئے۔

اس مذاکرے کے ضوابط کے تحت میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ کیا باتیں ہوئیں، یہ نہیں کہ یہ باتیں کس کی زبان سے نکلیں۔

جہالت کا تصادم؟
 کیا مغرب اور اسلام کے درمیان میں ایک نہ بھرنے والی خلیج یا جہالت کا تصادم ہے؟
آسٹریائی سفارت کار
یورپی یونین امیروں کا کلب ہے، او آئی سی کے ارکان غریب ہیں۔ ملیشیا کے ایک سفیر نے کہا: ’تسلط سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو برابر سمجھنا چاہیے۔‘ کارٹون تنازعے کے دوران یہ بات کہی گئی تھی کہ مغربی میڈیا مسلمانوں کو تفریق کی نظر سے دیکھتا ہے۔

مسلمان اسلاموفوبیا یعنی ’اسلام اور مسلمان سے خوف اور نفرت‘ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

لیکن کیسے؟

ایک مسلم جج نے کہا کہ آپ خوف اور نفرت کو غیرقانونی نہیں قرار دے سکتے، صرف ان کے اظہار کے ساتھ ایسا کیا جاسکتا ہے اور تب بھی بنیادی آزادی کے کچلے جانے کا خطرہ ہے۔

کارٹون تنازعے کے دوران یورپی حکومتوں نے مسلمانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ ان کے جذبات کو سمجھتی ہیں لیکن اخبار کے مدیروں کو یہ نہیں کہہ سکتیں کہ وہ کیا شائع کریں یا نہ کریں۔ ایک برطانوی اہلکار نے کہا کہ حکومتیں کبھی کبھی میڈیا کو اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتاسکتی ہیں لیکن بس اتنا ہی۔

مذاکرے میں یہ بات ہوئی کہ مسلمانوں کی یورپی معاشرے میں شمولیت کیسے ہو۔

مسلمان اب بھی یورپی معاشرے میں خود کو الگ پاتے ہیں
لندن کے دھماکے ان نوجوان مسلمانوں نے کیے تھے جو برطانیہ میں پلے بڑھے تھے۔ ایک برطانوی اہلکار کے مطابق اس حقیقت نے ان لوگوں کو جھنجھوڑ دیا جو یہ سمجھتے رہے تھے کہ برطانوی معاشرے نے سب کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔

نتیجتا مسلمانوں کی معاشرے میں شرکت اب برطانیہ کی داخلی اور امور خارجہ کی پالیسیوں کی ترجیحات میں شامل ہوگئی۔ جو لوگ زیادہ پرامید ہیں ان کا خیال تھا کہ یورپی مسلمان مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان لِنک کا کردار نبھا سکتے ہیں۔

لیکن ڈنمارک کے ایک مسلم نے کہا کہ یورپی مسلمانوں کو یورپی معاملات پر توجہ دینی ہوگی۔ مثال کے طور پر اس نے اور اس کے ایک ساتھی نے محسوس کیا کہ وہ یہودی۔مسلم ڈائیلاگ میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن اسی وقت جب وہ اسرائیلی۔فلسطینی تنازعے کو الگ کردیں۔

ایک آسٹریائی سفارت کار نے سوال کیا: کیا مغرب اور اسلام کے درمیان میں ایک نہ بھرنے والی خلیج یا جہالت کا تصادم ہے؟

نیدرلینڈ کے اہلکار یہ بتانے کی کوشش میں تھے کہ انہوں نے کارٹون تنازعے کے اسباق سیکھ لیے ہیں۔ ایک سابق وزیر نے کہا:’ہمیں مسلمانوں کے گہرے جذبات کا اندازہ نہیں تھا۔‘

 : ہم کیسے مغرب کو مذہبی آزادی کی تلقین کرسکتے ہیں جب ہم اپنے ملکوں میں ہی ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟
حقوق انسانی کے پاکستانی کارکن
کچھ مسلمانوں نے اپنے غیرمسلم پڑوسیوں کے خوف اور خدشات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ایک یورپی مسلم دانشور نے کہا: ’خوف زدہ ہوجانا یقینی ہے۔‘

مسلم حکومتوں پر بھی ذمہ داری ٹھہرائی گئی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے ایک کارکن نے کہا: ہم کیسے مغرب کو مذہبی آزادی کی تلقین کرسکتے ہیں جب ہم اپنے ملکوں میں ہی ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟

مسلم دنیا میں اقلیتیوں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں واضح سوالات کیے گئے۔ کیا مسلم دوہرے معیار کے مرتکب نہیں ہیں؟ بعض نے مشورہ دیا کہ اسلام اور یورپ کے درمیان تنازعے کا حل صرف تعلیم کے ذریعے ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کے سکولوں میں تین عشرے سے مختلف مذاہب کی تعلیم دی جارہی ہے جس کے اچھے نتیجے سامنے آرہے ہیں۔ میڈیا کا اثر قدرے کمزور پڑ رہا ہے۔

مصر سے آئے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ مسلم دنیا میں ’معاشرتی انقلاب‘ کے مطالبے کی بنیاد تعلیمی اصلاحات پر مبنی ہے۔

لیکن مذاکرے کے شرکاء میں کسی کو بھی آسان حل نہیں دکھائی دیا۔

اسلامی فیمنزم
عورتوں کے حقوق کے لئے جہاد پر زور
آپ کیا کہتے ہیں؟آپ کیا کہتے ہیں؟
پیغمبرِ اسلام کا کارٹون کیوں چھاپا گیا؟
مصرمصر اسلام کے زیرِاثر
مصری عوام میں مذہب سے رہنمائی کا رجحان
کریک ڈاؤن، کیا فائدہ؟
پاکستانی حکومت کے پاس کوئی واضح پلان نہیں
اسی بارے میں
برطانیہ میں مساجد
06 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد