مذاکرہ: یورپ بمقابلہ مسلمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ کارٹونوں سے پیدا ہونے والی خلیج کم کرنے کے لیے اسی ماہ جنوبی انگلینڈ میں یورپ اور مسلم دنیا کے رہنماؤں نے گفتگو کی۔ ایک مسلم سفارت کار نے کہا: ’کوئی اعتماد باقی نہ رہا۔ ڈائیلاگ ناکام رہا ہے۔ ہمیں تاریخ ساز مفاہمت کی ضرورت ہے۔‘ یورپی اخباروں میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت سے مسلمانوں کے اندر غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور ’تہذیبوں کے تصادم‘ کی وارننگ دی جانے لگی تھی۔ حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے او آئی سی یعنی آرگنائزیشن آف اسلامِک کانفرنس نے دو دن کے مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں سمیت مسلم اور غیرمسلم صحافی، حقوق انسانی کے کارکن اور ماہر تعلیم شامل ہوئے۔ اس مذاکرے کے ضوابط کے تحت میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ کیا باتیں ہوئیں، یہ نہیں کہ یہ باتیں کس کی زبان سے نکلیں۔
مسلمان اسلاموفوبیا یعنی ’اسلام اور مسلمان سے خوف اور نفرت‘ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کیسے؟ ایک مسلم جج نے کہا کہ آپ خوف اور نفرت کو غیرقانونی نہیں قرار دے سکتے، صرف ان کے اظہار کے ساتھ ایسا کیا جاسکتا ہے اور تب بھی بنیادی آزادی کے کچلے جانے کا خطرہ ہے۔ کارٹون تنازعے کے دوران یورپی حکومتوں نے مسلمانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ ان کے جذبات کو سمجھتی ہیں لیکن اخبار کے مدیروں کو یہ نہیں کہہ سکتیں کہ وہ کیا شائع کریں یا نہ کریں۔ ایک برطانوی اہلکار نے کہا کہ حکومتیں کبھی کبھی میڈیا کو اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتاسکتی ہیں لیکن بس اتنا ہی۔ مذاکرے میں یہ بات ہوئی کہ مسلمانوں کی یورپی معاشرے میں شمولیت کیسے ہو۔
نتیجتا مسلمانوں کی معاشرے میں شرکت اب برطانیہ کی داخلی اور امور خارجہ کی پالیسیوں کی ترجیحات میں شامل ہوگئی۔ جو لوگ زیادہ پرامید ہیں ان کا خیال تھا کہ یورپی مسلمان مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان لِنک کا کردار نبھا سکتے ہیں۔ لیکن ڈنمارک کے ایک مسلم نے کہا کہ یورپی مسلمانوں کو یورپی معاملات پر توجہ دینی ہوگی۔ مثال کے طور پر اس نے اور اس کے ایک ساتھی نے محسوس کیا کہ وہ یہودی۔مسلم ڈائیلاگ میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن اسی وقت جب وہ اسرائیلی۔فلسطینی تنازعے کو الگ کردیں۔ ایک آسٹریائی سفارت کار نے سوال کیا: کیا مغرب اور اسلام کے درمیان میں ایک نہ بھرنے والی خلیج یا جہالت کا تصادم ہے؟ نیدرلینڈ کے اہلکار یہ بتانے کی کوشش میں تھے کہ انہوں نے کارٹون تنازعے کے اسباق سیکھ لیے ہیں۔ ایک سابق وزیر نے کہا:’ہمیں مسلمانوں کے گہرے جذبات کا اندازہ نہیں تھا۔‘ مسلم حکومتوں پر بھی ذمہ داری ٹھہرائی گئی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے ایک کارکن نے کہا: ہم کیسے مغرب کو مذہبی آزادی کی تلقین کرسکتے ہیں جب ہم اپنے ملکوں میں ہی ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ مسلم دنیا میں اقلیتیوں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں واضح سوالات کیے گئے۔ کیا مسلم دوہرے معیار کے مرتکب نہیں ہیں؟ بعض نے مشورہ دیا کہ اسلام اور یورپ کے درمیان تنازعے کا حل صرف تعلیم کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ برطانیہ کے سکولوں میں تین عشرے سے مختلف مذاہب کی تعلیم دی جارہی ہے جس کے اچھے نتیجے سامنے آرہے ہیں۔ میڈیا کا اثر قدرے کمزور پڑ رہا ہے۔ مصر سے آئے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ مسلم دنیا میں ’معاشرتی انقلاب‘ کے مطالبے کی بنیاد تعلیمی اصلاحات پر مبنی ہے۔ لیکن مذاکرے کے شرکاء میں کسی کو بھی آسان حل نہیں دکھائی دیا۔ |
اسی بارے میں ’اسلامک جہاد‘ کا نیا اعلان03 August, 2005 | آس پاس شاہی کالج میں اسلامی نصاب19 April, 2004 | آس پاس برطانیہ میں مساجد06 July, 2005 | آس پاس نماز جمعہ میں خاتون کی امامت18 March, 2005 | آس پاس الہامی پیغام اور وقت کے تقاضے26 March, 2006 | آس پاس امریکہ نہیں تو اوکسفورڈ سہی27 August, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||