امریکہ نہیں تو اوکسفورڈ سہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے اسلامی سکالر کو برطانیہ کی اوکسفورڈ یونیورسٹی میں تدریس کی اجازت دی گئی ہے جن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہے۔ جنیوا سے تعلق رکھنے والے پروفیسرطارق رمضان کو ٹائم میگزین نے گزشتہ برس اکیسویں صدی کے سرکردہ اختراع پسند افراد میں سے ایک قرار دیا تھا۔ پروفیسر رمضان امریکہ کی نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں اس وقت سلسلہ تدریس شروع نہیں کر سکے تھے جب جولائی سنہ 2004 میں امریکی حکام نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اوکسفورڈ کے سینٹ انتھونی کالج کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک جز وقتی استاد کے طور پر اکتوبر میں تدریس کا سلسلہ شروع کریں گے۔ کالج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پروفیسر رمضان بین الاقوامی شہرت کے حامل سکالر ہیں‘۔ اڑتیس سالہ پروفیسر طارق رمضان انیس سو بیس کے عشرے کے مشہور اسلامی سکالر حسن البنٰی کے پوتے ہیں۔ ان پر اسرائیل اور عراق میں ہونے والے حملوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ پروفیسر رمضان نے عوامی طور پر نیویارک اور لندن میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ معصوم لوگوں کی جان لینے کے خلاف ہیں۔ لندن حملوں کے بعد برطانوی اخبار ’سن‘ نے انہیں ایک’ اسلامی شدت پسند‘ قرار دیا تھا اور انہیں برطانیہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں بلانے کی مخالفت کی تھی۔ پروفیسر رمضان برطانیہ اور یورپی یونین کے دوسرے ممالک کےد رمیان سفر کرتے رہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||