مسلم دنیا کی وسیع ترین ویب سائٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم دنیا کے سب سے بڑے اور دنیا بھر کے وسیع ترین ای منصوبوں میں سے ایک کا افتتاح گزشتہ دنوں ہوا ہے جسکی تکمیل کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ پانچ سو ملین ڈالر سے زائد کی لاگت سے قائم ہونے والی یہ ویب سائٹ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ الازھر کی ڈیجیٹل لائبریری ہے جو بلا مبالغہ مسلم دنیا کی وسیع ترین ویب سائٹ ہے۔ اس آن لائن پر خرچ ہونے والی لگ بھگ ساری رقم دبئی کے ولی عہد شہزادے شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مہیا کی ہے اور ویب سائٹ کا پتہ www.alazhar.org بھی فی الحال یہ فقط عربی زبان میں ہے لیکن جلد ہی اس پر انگریزی اور فرانسیسی کے علاوہ مزید چار غیر ملکی زبانوں میں بھی یہ مواد مہیا کیا جائے گا۔ جامعہ الازھر کے حکام کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد خاص طور پر اس منصوبے کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں اور انکی ثقافتوں کو قریب تر لانا اور اسلام کے بارے میں ثقہ معلومات فراہم کرنا ہے۔ مسلم دنیا کی اس وسیع ترین ویب سائٹ کے بارے میں معلومات سے قبل ایک مختصر سا جائزہ جامعہ الازھر کا۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یورپ کی قدیم ترین یونیورسٹی 1088 عیسوی میں شمالی اٹلی کے شہر بلوگنا میں اور امریکہ کی قدیم ترین ہاورڈ یونیورسٹی 1636 میں قائم ہوئی تھی لیکن مصر کی الازھر یونیورسٹی کو دنیا بھر کی قدیم ترین یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جسکا قیام ایک ہزار سال سے زائد عرصے قبل اسوقت عمل میں آیا تھا جب 358 ہجری بمطابق 969 عیسوی میں مصر کو فتح کرنے کے لیے فاطمی حکمرانوں کے بھیجے کمانڈر جواہر نے تاریخی شہر قاہرہ کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ الازھر مسجد کی بنیاد رکھی
الازھر یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات اس یونیورسٹی میں نوے ہزار تک طلبا بھی زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ ایسی عظیم اور قدیم یونیورسٹی کی متعدد لائبریریوں میں گزشتہ ہزار سال سے زائد عرصے سے اسلام سے متعلق قدیم اور نادر کتابوں اور مخطوطات کا ایک ذخیرہ جمع ہوتا رہا ہے جس تک عام لوگوں کی رسائی نہیں تھی لیکن اب اس ویب سائٹ کے اجرا کے بعد ان تک عام لوگوں کی بھی رسائی ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الازھر کی لائبریریوں میں ایک لاکھ اٹھائیس ہزار سے زیادہ کُتب اور بیالس ہزار سے زیادہ نایاب مخطوطات ہیں جن میں سے کچھ چودہ سو سال پرانے بھی ہیں اور اب یہ سارا خزانہ لاکھوں صفحات کی صورت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے اس ویب سائٹ پر ڈالا جارہا ہے جسکا ساٹھ فیصد کام مکمل ہو گیا ہے اور باقی اگلے چند ماہ میں تکمیل پا جائے گا۔
اس علمی خزانے کے علاوہ اس ویب سائٹ پر قرآن کے مختلف تراجم اورتفاسیر اور احادیث تحریری اور صوتی صورت میں اور مختلف اوقات میں جاری کردہ فتوے بھی اصل صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ الازھر آن لائن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر معین مکی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی سرگرمیوں کا مرکز جامعہ کی مرکزی لائبریری کی پانچویں منزل ہے جہاں علمائے دین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مل کر ایسا کارنامہ سرا نجام دیا ہے کہ اب طالبانِ علم اور سکالرز کو دور دراز کا سفر کر کے قاہرہ نہیں آنا پڑے گا اور یہ سب کچھ وہ اپنے ملک میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ معین مکی کے مطابق اس منصوبے کا آغاز اپریل دو ہزار میں ہوا تھا اور پانچ سال کے عرصے میں ایک سو سے زائد افراد کی شبانہ روز محنت کے بعد اب یہ ویب سائٹ دنیا بھر کے علم کے متلاشی افراد کے لیے ایک الگ اور نئی دنیا ہے اور اس میں محفوظ کی جانے والی کُتب اور مخطوطات کو چھتیس شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور چودہ سو سال پرانے کئی ایسے نادر مخطوطات کو بھی ڈیجیٹل طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے جنکی حالت نہایت خستہ ہو چکی تھی۔
اس ویب سائٹ کا کام تین مراحل میں مکمل ہو گا۔ پہلا مرحلہ علمی خزانے کو سائٹ پر منتقل کرنے کا ہے جو لگ بھگ پورا ہو رہا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ فتاویٰ کے ضمن میں دنیا بھر کے علما کو ای میل اور انٹرایکٹو طور پر مربوط کرنا اور عام لوگوں کو سوالات پوچھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں اس ویب سائٹ پر نایاب علمی خزانے کے علاوہ جامعہ الازھر کی مکمل تاریخ، الازھر کے مفتی اعظم کے خطبات، جامعہ الاظہر کی ورچوئل سیر کے علاوہ اسلامی قوانین، ثقافت اور تاریخ کے بارے میں بھی معلومات کی ایک منفرد دنیا موجود ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||