امریکہ: اسلامی سکالر کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک اسلامی سکالر کو مسلمانوں کو افغانستان میں طالبان کا ساتھ دینے اور امریکی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ علی التمیمی نامی اس مسلم سکالر کو امریکی ریاست ورجینیا کے علاقے الیگزینڈریا کی عدالت نے سزا سنائی۔ عدالت کے جج لیونی برنکیما کا کہنا تھا کہ مجرم کے خلاف فراہم کیے گئے ثبوت عمر قید کی سزا کے لیے کافی تھے۔ اکتالیس سالہ اسلامی سکالر کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہ ہی جرم قبول کروں گا اور نہ ہی رحم کی اپیل کروں گا کیونکہ میں معصوم ہوں‘۔ ان کے وکلاء نے اس مقدمے کو آزادی اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ تمیمی پر الزام ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد ایک مسجد میں نوجوان مسلمانوں کو اس بات پر اکسایا کہ وہ جہاد میں حصہ لیں اور افغانستان میں طالبان کی مدد کریں۔ امریکی وکلائے استغاثہ نے اپنے مقدمے کی بنیاد سولہ ستمبر 2001 کو واشنگٹن کے نزدیک تمیمی اور نوجوان مسلمانوں کی ملاقات کو بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ورجینیا جہاد نیٹ ورک نامی ایک گروہ بنا رہے تھے جس کا کام دنیا بھر میں جہاد کے لیے تربیت فراہم کرنا تھا‘۔ اس سلسلے میں وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ ان کا مؤکل ان نوجوان مسلمانوں کو صرف یہ بتا رہا تھا کہ اگر انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنا ہے تو انہیں امریکہ چھوڑ دینا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||