BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصر میں بڑھتا مذہبی رجحان

مصر
مصر میں ہزاروں کی تعداد میں مجسمے موجود ہیں
مصر میں مجسموں کی نمائش کی مذمت کے ایک فتوے پر ملک کے آزاد خیال اور دانشور حلقے کافی مشتعل ہیں۔

ان افراد کو خدشہ ہے کہ اس فتوے سے بنیاد پرست عوامل کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ فراعنہ کے زمانے کے ورثے کو تباہ کرنے کی کوشش کریں۔

یہ فتوٰی مصر کے ایک مفتی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اسلام میں ہر اس تصویر یا مجسمہ بنانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو کسی بھی طرح انسانی شکل سے مماثلت رکھتا ہو۔

مصر میں ہزاروں کی تعداد میں مجسموں پر مشتمل قدیمی ورثے کے علاوہ بڑے شہروں میں جدید طرز پر بنائے گئے مجسمے بھی شامل ہیں۔

کئی تنقید کار تو حیران ہیں کہ ایسا فتوٰی جاری ہی کیوں کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں مصری افراد زندگی کے تقریباً ہر معاملے ہی میں مذہبی رہنمائی حاصل کرنے پر مائل ہیں۔

مصر میں ویب سائٹ کے ذریعے بھی مذہبی تشہیر اہم رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اسلام آن لائن ایسی ہی ایک ویب سائٹ ہے۔ اس کے مدیر محمد امین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سیکشن ’ آسک آ سکالر‘ (عالم سے پوچھیئے) کے نام سے شروع کیا ہے جس میں لوگ مذہبی مسائل پر رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

مصر
فتوے میں مجسموں کی نمائش کی مذمت کی گئی ہے

مصری معاشرے میں فتوے لینے کا رجحان زور پکڑتا جارہا ہے اور اس وقت اٹھایا جانے والا مجسموں کا معاملہ بھی ایسے ہی ایک سوال کے بعد سامنے آیا جس میں ایک شخص نے مجسموں کی اسلامی حیثیت کے بارے میں پوچھا تھا۔

’پولیٹیکل اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز‘ کے الاحرام سینٹر کے محمد السید سعد کے مطابق مصر کے عوام میں مذہبی رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی معاشرے کے وہ ماڈل جو انیسویں اور بیسویں صدی میں یہاں اثر انداز ہوئے تھے، اب ان کی جگہ اسلامی طرز زندگی سے تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ سعد کے مطابق ملک کے اپنے اندر سیکولر اور مذہبی حلقوں میں خلیج بھی بڑھتی جارہی ہے۔

ان حالات میں یہ کوئی باعث حیرت بات نہیں کہ مصر میں مذہبی جماعتیں تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ کالعدم قرار دیئے جانے کے باوجود اسلامی تنظیم کے پاس پارلیمان کی بیس فیصد نشستیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جماعت کی مقبولیت کی وجوہات میں ملک میں سیاسی طور پر پائی جانے والی پابندیاں، معیشت کی منفی کارکردگی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر عوام میں بڑھتی بے چینی شامل ہیں۔ سید سعد کا کہنا ہےکہ اگر ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر یونہی پابندی رہی تو اسلام لوگوں کے مستقبل کا نظریہ بن جائے گا۔

تاہم اس بات سے قطع نظر کہ ملک میں سیاسی طور پر کیا ہوتا ہے، فی الحال تو یہ واضح ہے کہ مستقبل قریب میں مذہب وہ قوت بنتا جارہا ہے جس سے لوگ زندگی کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ رہنمائی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اسی بارے میں
پاکستان مِصر سے کچھ تو سیکھے
07 May, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد