دورِ فرعونیہ کے مقبرے کی دریافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آثار قدیمہ کے ماہرین نے مصر میں ایک قدیم مقبرہ تلاش کیا ہے جو کہ ’توت عنخ آمون‘ بادشاہ کے مقبرے کی 1922 میں دریافت کے بعد اس طرح کی پہلی کامیابی ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف میمفِس کے ماہرین نے یہ مقبرہ وادئ الملوک میں دریافت کیا۔ اس میں پانچ ممیاں یعنی محفوظ کی گئی لاشیں ہیں۔ ماہرین ابھی ان لاشوں کی شناخت نہیں کرپائے ہیں۔ لیکن آثار قدیمہ سے متعلق مصر کے ایک ماہر زاہدی حواس نے کہا کہ یہ لاشیں ان بادشاہوں یا خواص کی ہوسکتی ہیں جنہیں ان کی اصلی جگہ سے ہٹاکر یہاں رکھا گیا ہوگا تاکہ انہیں قبر چوری کرنے والوں سے بچایا جاسکے۔ زاہی حواس نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’ہمیں صحیح نہیں معلوم کہ اندر کس طرح کے لوگ ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ کسی بادشاہ خاندان کے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ بادشاہ، ملکہ یا خواص لوگ ہوں۔‘ قدیم مصری معاشرے کا مطالعہ کرنے والے ادارے انسیئنٹ ایجِپٹ سوسائٹی کے باب پارٹریج کا خیال تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مقبرہ ملکہ نیفریتی کا ہو جنہوں نے مصرف پر 1379 سے 1358 قبل مسیح کے درمیان حکمرانی کی۔ مصر کے جنوبی شہر لکسر کے قریب وادئ الملوک وہ جگہ ہے جہاں 1540 قبل مسیح سے 500 سال بعد تک لاشیں دفن کی جاتی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دریافت ہونے والے مقبرے کا تعلق اٹھارہویں دور فرعونیہ سے ہے۔ دور فرعونیہ مصر کا نئی سلطنت پر 1539 قبل مسیح سے 1292 قبل مسیح کے درمیان بول بالا رہا۔ اس دور کا دارالحکومت تھیبے یعنی لکسر تھا۔ اٹھارہویں صدی میں وادئ الملوک کی دریافت ہوئی تھی اور تب سے یہ دریافت کیا جانے والا یہ ترسٹھواں مقبرہ ہے۔ اس کی دریافت غیرمتوقع تھی کیوں کہ ماہرین مقبرے کی تلاش میں نہیں نکلے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||