| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدیم مصر میں انسانوں کی طرح جانوروں کی لاشوں کو بھی حنوط کیا جاتا تھا اور یہ طریقہ اتنا ہی پیچیدہ تھا جتنا کہ انسانوں کو حنوط کرنے کا۔ اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مصری اپنے پالتو جانوروں کو بھی اتنی ہی حفاظت اور احتیاط سے حنوط کیا کرتے تھے جتنا انسانوں کو۔ قدیم مصر میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ جانوروں کو بھی اگلے جہان کا سفر درپیش ہے۔ حنوط کرنے سے قبل جانوروں کے جسم کے اعضاء اتار لیے جاتے اور ان پر طرح طرح کی پٹیاں باندھ دی جاتیں۔ بعد میں ان پر انواع و اقسام کا کیماوی مواد لگایا جاتا تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ مصریوں نے جن جانوروں کو بہت زیادہ حنوط کیا ہے ان میں گائے، مگرمچھ، بچھو، سانپ اور کہیں کہیں شیر بھی شامل ہیں۔ برسٹل یونیورسٹی کے تحقیق کار رچرڈ ایورشیڈ اور کچھ دوسرے ماہرین نے بلی، باز اور چند دیگر پرندوں کی حنوط شدہ لاشیں دیکھی ہیں اور ان میں لگے ہوئے خاص کیماوی مواد کا تجزیہ کیا ہے۔ اس سے پتہ چلا ہے کہ یہ مواد خاصے پیچیدہ مسالے پر مشتمل تھا اور ایسے ہی مسالے سے انسانوں کی لاشوں کو حنوط کیا جاتا تھا۔ چونکہ مصریوں کے نزدیک جانور بہت اہم حیثیت رکھتے تھے لہذا وہ ان کو حنوط کرتے وقت احترام کو بالائے طاق نہیں رکھتے تھے بلکہ ان جانوروں کی ’عزت‘ کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ حنوط کیے جانے والے جانوروں کی چار قسمیں تھیں۔ ایک وہ جنہیں قبروں میں مردے کے سرہانے اس لیے رکھتے تھے کہ وہ خوراک کا کام دیں گے، دوسرے مرنے والے کے پالتو جانور ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ان جانوروں کو بھی مرنے کے بعد حنوط کر دیا جاتا جو کسی نہ کسی طرح کسی مذہب سے وابستہ ہوتے تھے۔ حنوط ہونے والے جانوروں کی چوتھی قسم وہ تھی جسے دیوتاؤں کے سامنے قربانی کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔ بعض حالتوں میں جانوروں کو مرنے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی حنوط کر دیا جاتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||