BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 19:48 GMT 00:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصر دھماکے: 23 ہلاک، 62 زخمی
 فائل فوٹو
شرم الشیخ میں ہونے والی کئی دھماکوں 63 افراد ہلاک اورسو سے زیادہ زخمی ہو ئے تھے
مصر کے ایک سیاحتی مقام دھب میں تین دھماکے ہوئے ہیں جن میں تئیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان دھماکوں میں باسٹھ کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جہاں دھماکے ہوئے وہ علاقہ سیاحوں کا مرکز ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ انہوں نے تین دھماکوں کی آوازیں سنیں جو ایک دوسرے کے بعد ہوئے۔ جہاں یہ دھماکے ہوئے وہاں کئی ہوٹل اور ریستوران ہیں۔ اس علاقے میں عام طور پر اسرائیلی سیاح زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

دھماکوں کے بعد دھب کا علاقہ جہاں ہروقت لوگوں کی چہل پہل رہتی ہے، مکمل طور پر گرد آلود ہوگیا۔ دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ ہر سمت گرد و غبار چھایا ہوا تھا۔

عینی شاہدوں نے کیا بتایا
زخمیوں کو شرم الشیخ اور دیگر ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے اور دھب کے اردگرد پولیس نے چیک پوائنٹس لگا دیئے ہیں اور شہر میں تقریباً کرفیو کا سا سماں ہے۔ غیر ملکی سیاح صدمے کے باعث اپنے اپنے ہوٹلوں میں واپس جا چکے ہیں اور دھب کا عالم یہ ہے کہ وہاں مکل خاموشی اور تاریکی ہے

دھماکے سے پہلے شام کے وقت علاقے کے بازار میں بڑی تعداد میں لوگ خریداری میں مصروف تھے اور یورپ اور اسرائیل سے آئے ہوئے سیاح محظوظ ہو رہے تھے۔

پیر کو مصر میں موسمِ بہار کی آمد پر چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا اور یہودیوں کے تہوار پاس اوور جسے عیدِ نجات بھی کہتے ہیں کا اختتام ہو رہا تھا۔

دھماکوں کے بعد بھی لوگ اس مقام پر آئے جو محض چند گھنٹے قبل ہنستا بستا بازار تھا لیکن یہاں آنے والےاس مقام کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے تاکہ ابتدائی تفتیش میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

عینی شاہدوں نے جن کے چہروں پر زخموں کے اور کپڑوں پر خون کے نشان تھے بتایا کہ یہ دھماکے علاقے ساحل سے متصل سب سے بڑی مارکیٹ میں ہوئے۔

زخمیوں کو شرم الشیخ اور دیگر ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے اور دھب کے اردگرد پولیس نے چیک پوائنٹس لگا دیئے ہیں اور شہر میں تقریباً کرفیو کا سا سماں ہے۔ غیر ملکی سیاح صدمے کے باعث اپنے اپنے ہوٹلوں میں واپس جا چکے ہیں اور دھب کا عالم یہ ہے کہ وہاں مکل خاموشی اور تاریکی ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں مصر ہی کے ایک سیاحتی مقام شرم الشیخ میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہاں مرنے والوں میں زیادہ تر سیاح تھے۔ دو برس قبل طوبہ کے سیاحتی مرکز میں دھماکوں سے تیس افراد مارے گئے تھے۔

عالمی سطح پر مصر میں ہونے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے

ان دھماکوں پر عالمی ردِ عمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک نے دھب دھماکوں کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملزموں کو ہر قیمت پر سزا دی جائے گی۔

امریکی صدر جارج بش نے ان دھماکوں کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے بھی دھماکوں کی مذمت کی ہے اور اسے مجرمانہ عمل قرار دیا ہے جو مذہب کے خلاف ہے اور جس سے عرب مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

قاہرہ میں اسرائیل کے سفیر نے اسرائیلیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سینائی سے فوراً چلے جائیں۔ چناچنہ شام کے وقت اسرائیلی گاڑیاں اپنی سرحد کی طرف جاتی دکھائی بھی دیں۔

مصر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والے مواد کے ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملکی ساخت کا تھا۔

اسی بارے میں
مصر میں بم دھماکے، 30 ہلاک
07 October, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد