مصر:دھماکوں میں تراسی افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں ہونے والی کئی دھماکوں کم سے کم 83 افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بحیرہ احمر پر واقع سیاحتی مقام شرم الشیخ شہر کے پرانے مارکیٹ اور نعمہ بے کے علاقے میں شدید دھماکے ہوئے۔ اس دھماکوں میں مصری باشندوں کے علاوہ غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے ہوئے ہیں۔ نامہ بے کے علاقے میں واقع غزالہ گارڈنز ہوٹل خود کش کار بم حملے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم عبداللہ اعظم بریگیڈ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عبداللہ اعظم بریگیڈ نے ایک اسلامی ویب سائٹ پر لگائے گئے اپنے بیان میں دعوی کیا ہے کہ انہوں نے یہ دھماکے کیے ہیں۔اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ مصر میں آٹھ سال پہلے ہونے والے شدید دھماکوں کے بعد یہ سب سے بڑا دھماکہ ہے ۔1997 میں شرم الشیخ میں ہونے والے دھماکے میں باسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک اپنی چھٹیاں ختم کر کے واپس آ گئے ہیں اور دھماکہ کی جگہ کا دورہ کیا ہے۔ مصر میں یہ دھماکہ مصر میں قومی چھٹی والے دن کیے گئے ہیں۔اس دن 1952 میں مصری انقلاب کی یاد میں چھٹی کی جاتی ہے۔ مصر کے وزیر داخلہ حبیب العدلی نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے یہ گھٹیا ہتھکنڈے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے جو اسرائیل کے دورے پر ہیں، دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر اور امریکہ دہشت گردوں کا سامنا کریں گے اور ان کو شکست دیں گے۔ شرم الشیخ کے رہائشیوں کے مطابق ایک دھماکہ علاقے کی مارکیٹ میں ہوا۔ اس مارکیٹ کی دکانیں سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں برطانوی، مصری، ولندیزی، کویتی اور قطری شہری شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خليج نامہ بے میں ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سے ایک بری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ یورپ اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے بہت سے سیاح خلیج نعمۃ میں واقع ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے موسم میں ہوئے ہیں جب اس علاقے میں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا رش ہوتا ہے۔ گزشتہ سال شرم الشیخ میں بم دھماکوں میں چونتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||