| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فتووں کی پرواہ نہیں‘ مصری شاعر
ایک مصری شاعر نے مسلمان علماء اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے اپنی کتاب کو بے انتہا جنسی نوعیت سے بھرپور قرار دیئے جانے کے فتویٰ کو مسترد کردیا ہے۔ مصری شاعر احمد شاھاوی کا کہنا ہے کہ ’عورت کے بارے میں احکامات‘ کے خلاف ان فتووں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کتاب کے ناشر کا کہنا ہے کہ جامعۃ الاظہر (مصر کی جامعہ) صرف یہ تجویز دے سکتی ہے کہ لوگوں کو کون سی کتاب پڑھنی چاہیے لیکن وہ کسی پر پابندی عائد نہیں کرسکتی۔ مصر میں علم و ادب اور انسانی حقوق سے متعلق حلقوں نے اس کتاب کے خلاف احکامات اور فتویٰ کو آزادئ اظہار کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے احکامات مذہبی اداروں کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں اس تنازعہ کا آغاز گزشتہ ستمبر میں اس وقت ہوا تھا جب ایک رکن پارلیمان نے اس کتاب پر پارلیمان میں یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا تھا کہ اس میں اسلامی اصولوں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس واقعے کے فوراً بعد اس کتاب کی اشاعت کے سرکاری ناشر نے اس کتاب کی تمام جلدیں بازار سے اٹھوا لی تھیں۔ لیکن محض چند ہی گھنٹوں کے بعد یہ کتاب فروخت کے لئے اس وقت دوبارہ پیش کردی گئی تھی جب اس کتاب کی توثیق اور اس کی اشاعت کی اجازت دینے والے علماء نے وضاحت کی تھی کہ اس کتاب کے مصنف شاعر نے دراصل قرآن کی مقدس آیات اور ورثہ اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور عربی ثقافت و تہذیب و تمدن کی روشنی میں عورت کی حیثیت کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان علماءنے اس کتاب میں اسلامی صوفیانہ طریقۂ کار کی بنیاد پر زبردست ستائش و تعریف کی تھی۔ تاہم ان علماء کا یہ مؤقف جسے بعض سرکاری طاقتور شخصیات کی حمایت بھی حاصل تھی، محض ناشرین کو تو قائل کرسکا مگر اسلام کے سنّی فرقے کے اعلیٰ ترین ادارے جامعۃ الاظہر پر ان علماء کی اس وضاحت سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ سنیچر کو جامعۃ الاظہر کے مجتہدین (تحقیقاتی ادارے کے ارکان) نے کہا تھا کہ لوگ اس کتاب کو نہ پڑھیں۔ جامعۃ الاظہر کے مجتہدین کے مطابق یہ کتاب فحاشی کی کھلے عام دعوت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت جیسی شے کو خود کو بغیر کسی شرم و حیا کے اپنے چاہنے والے کے سپرد کردینا چاہیے یا یہ کہ اپنے محبوب کے سامنے مکمل عریاں ہوجانا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||