لیبیا: مشتبہ شخص مصر کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا نے مصر میں پچھلے ہفتے سیاحوں پر حملہ کرنے والے مرد اور عورت کے بھائی کو مصر کے حوالے کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لیبیا کی پولیس نے سترہ سالہ محمد یوسری یاسین کو ایک گھر سے گرفتار کیا جو ایک مصری نے کرائے پر لے رکھا تھا۔لیبیا پولیس نے محمد یوسری یاسین کو مصری پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے محمد یوسری یاسین کا بھائی احاب اس وقت قاہرہ میوزیم کے سامنے ہلاک ہو گیا تھا جب پولیس نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ مصری پولیس کے مطابق احاب نے دیسی ساخت کا ایک گرینیڈ اپنی جیب میں چھپا رکھا تھا جو اس نے پولیس کی گرفتار سے بچنے کے لیے پھاڑ دیا جس میں نہ صرف وہ خود مارا گیا بلکہ سات دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دو خواتین نے، جن میں ایک احاب کی بہن اور دوسری اس کی منگیتر تھی ، اسرائیلی سیاحوں سے بھری ہوئی ایک بس پر گولیاں چلا دیں تھیں ۔ بس پر فائرنگ کرنے کے بعد ایک خاتون نے دوسری کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔ مصری اخباروں کے مطابق محمد یوسری یاسین نے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||