قاہرہ میں سیاحوں پر حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ایک مشتبہ شدت پسند اپنا ہی گرینیڈ پھٹ جانے سے ہلاک ہو گیا ہے۔ اس حادثے میں سات دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق تین ہفتے قبل سیاحوں پر ایک حملے میں مطلوب شخص ایحاب یوسری یاسین کا پولیس سنیچر کے روز پیچھا کر رہی تھی کہ اس کے کپڑوں میں چھپا ہوا بم پھٹ گیا۔ تفصیلات کے مطابق پولیس سے بھاگتے ہوئے جب یاسین نے قاہرہ کے ایجیپشین میوزیم کے سامنے والے مصروف پل سے سڑک پر چھلانگ لگائی تو اس کی جیب میں موجود کیلوں سے بنا ہوا دیسی ساخت کا بم پھٹ گیا جس سے یاسین موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ قاہرہ سے بی بی سی کی نامہ نگار حبہ صالح کے مطابق وزارتِ داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس واقع کے دو گھنٹے کے بعد یاسین کی ایک بہن اور منگیتر نے سیاحوں سے بھری ہوئی ایک بس پر گولیاں چلا دیں ۔ بیان کے مطابق اس کے بعد ان میں سے ایک خاتون نے دوسری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر خود کو بھی گولی مار دی۔ اس سے قبل سنیچر کو ہی پولیس نے یاسین کے دو ساتھی گرفتار کیے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پرانے شہر میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان حملوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسندوں نے ملک میں سیاحوں کے خلاف دوبارہ تحریک شروع کر دی ہے۔ اپریل کے شروع میں قاہرہ کے بازار میں ایک خود کش حملے میں تین سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||