BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 April, 2005, 23:47 GMT 04:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاہرہ میں سیاحوں پر حملے
قاہرہ میں ہلاکت
قاہرہ میں مرنے والے شخص کی لاش پڑی ہے
مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ایک مشتبہ شدت پسند اپنا ہی گرینیڈ پھٹ جانے سے ہلاک ہو گیا ہے۔ اس حادثے میں سات دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق تین ہفتے قبل سیاحوں پر ایک حملے میں مطلوب شخص ایحاب یوسری یاسین کا پولیس سنیچر کے روز پیچھا کر رہی تھی کہ اس کے کپڑوں میں چھپا ہوا بم پھٹ گیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس سے بھاگتے ہوئے جب یاسین نے قاہرہ کے ایجیپشین میوزیم کے سامنے والے مصروف پل سے سڑک پر چھلانگ لگائی تو اس کی جیب میں موجود کیلوں سے بنا ہوا دیسی ساخت کا بم پھٹ گیا جس سے یاسین موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

قاہرہ سے بی بی سی کی نامہ نگار حبہ صالح کے مطابق وزارتِ داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس واقع کے دو گھنٹے کے بعد یاسین کی ایک بہن اور منگیتر نے سیاحوں سے بھری ہوئی ایک بس پر گولیاں چلا دیں ۔ بیان کے مطابق اس کے بعد ان میں سے ایک خاتون نے دوسری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر خود کو بھی گولی مار دی۔

اس سے قبل سنیچر کو ہی پولیس نے یاسین کے دو ساتھی گرفتار کیے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پرانے شہر میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان حملوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسندوں نے ملک میں سیاحوں کے خلاف دوبارہ تحریک شروع کر دی ہے۔

اپریل کے شروع میں قاہرہ کے بازار میں ایک خود کش حملے میں تین سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد