BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2003, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحرا کا گہناتا ہوا حُسن

صحرا کی خاموشی میں دل کی دھڑکن بھی سنی جا سکتی ہے

سکوں ایسا کہ زمین کی گردش اور دل کی دھڑکن سنی جا سکے۔ آسماں اتنا قریب کہ بڑھ کر ستاروں کو چھونے کو دل چاہے۔ اور جب گبلی یعنی ریت کا طوفان چلے تو دو قدم پر دیکھنا محال اور اپنا کہا بھی نہ سنا جا سکے۔ جی یہ صحرا ہے اور صحرا بھی کونسا؟ صحرائے اعظم صحارا۔

عمر مختار کی اطالویوں کے خلاف مزاحمت اور پھر دوسری جنگ عظیم کے معرکوں کا امین صحارا بحر اوقیانوس سے بحیرۂ احمر تک نوے لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

باوجود اس کی وسعت اور ہیبت کے، انسان نے صحارا کو بھی شکست دے دی۔ اس کی گرمی، اس کی سردی، اس کی خشکی، اس کی ریت، پانی کی ناپیدگی، خوراک کا مشکل حصول، یہ تمام باتیں توارگ، تبو اور عرب کسی کو بھی صحرا سے باہر نہ لے جا سکیں۔

توارگ قبیلے کے ایک شخص سے جب پوچھا گیا کہ آپ کسی شہر میں یا اس کے مضافات میں کیوں آباد نہیں ہو جاتے؟ تو وہ جذباتی لہجے میں کہنے لگا کہ ’ماں جیسی بھی ہو ماں ہوتی ہے۔ کبھی اس کے سینے سے بچے کو دودھ نہیں بھی ملتا لیکن وہ اپنی ماں کو نہیں چھوڑ سکتا۔ صحرا ہماری ماں ہے، ہمیں اس سے، یہاں کی ریت سے، یہاں کے بے نشان راستوں سے، یہاں کے نخلستانوں سے پیار ہے۔ شہر میں ہمارا دم گھٹتا ہے‘۔

توارگ اور تبو صحارا کے خانہ بدوش قبائل ہیں۔ اگرچہ بہت سے خاندان لمبی خشک سالی کے باعث مراکش، الجیریا، مراتانیا، لیبیا اور دیگر ممالک میں مقیم بھی ہو گئے ہیں لیکن اب بھی بڑی تعداد خانہ بدوشوں کی ہے۔

کاغذ پر کھینچی گئی سرحدیں، ان لوگوں کو صحارا میں ایک ملک سے دوسرے ملک جانے سے نہیں روک سکتیں۔ توارگ اور تبو اونٹ اور بھیڑیں پالتے ہیں۔ جہاں پانی اور سبزہ دیکھا وہیں ایک خیمہ بستی آباد ہو گئی۔ فکر و فاقہ سے آزاد زندگی، صبح ہویی تو رات کی فکر نہیں اور رات کو آنے والی صبح کی فکر نہیں۔ اپنے حال میں مست، نہ ہائرنگ کی فکر، نہ نہ فائرنگ کا ڈر، نہ پرموشن کا چکر، نہ اسٹاک کا بکھیڑا، فطرت کے قریب تر۔

تبو قبائل اب بہت بدل گئے اور انہوں نے عربوں کا رہن سہن اپنا لیا ہے لیکن توارگ اب بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اپنے مخصوص رہن سہن کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ سب سے عجیب ان کی شادی ہوتی ہے جس میں دلہا سر سے پیر تک مکمل پردے میں ہوتا ہے۔ صرف اس کی آنکھیں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ دلہن کا چہرہ کھلا ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا علامتی اظہار ہوتا ہے کہ شادی کے بعد عورت مرد پر غالب رہے گی (حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں یہ علامتی اظہار نہیں، غالب وہاں بھی عورتیں ہی ہیں)۔ شادی میں مرد ناچتے اور عورتیں دیکھتی ہیں۔

عربوں میں خانہ بدوش کم ہیں۔ ان لوگوں کا ذریۂ معاش کھجور کے باغات اور کھیتی باڑی ہے۔ پہلے تو نخلستان قدرتی ہوا کرتے تھے لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اب نخلستان بھی ہر جگہ بننے لگ گئے۔

صحرا میں چلتے چلتے آپ کو اچانک گولائی میں بنا گندم کا کھیت نظر آئے گا۔ دو چار کلومیٹر ریت اور پھر کوئی کھیت۔۔۔۔ایسا لگتا ہے جیسے کسی کارخانے میں یہ کھیت بنا کر یہاں لا کر رکھ دیے گئے ہیں، صحرا کا حصہ نہیں لگتے۔

جیالو۔۔۔۔طرابلس، بنغازی شاہراہ پر اجدابیا کے مقام سے دو سو پچاس کلومیٹر صحرا میں ہے۔ یہ ایک چھوٹا نخلستان ہے۔ کھجور کے باغات کے لیے مشہور۔ جیالوں نے دو سال قبل وہ منظر دیکھا جو شاید طوفانِ نوح کے بعد اس ریت کو دیکھنا نصیب نہیں ہوا ہو گا۔

صاف پانی کی چار میٹر قطر کی پائپ لائن جو حال ہی میں بچھائی گئی تھی، پھٹ گئی۔ صدیوں کی پیاسی زمین اور اس کے درخت اور اس زمین پر رہنے والوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ پانی نے ایک جھیل بنا دی، صحرا میں جھیل۔۔۔۔

صحارا میں توارگ، تبو اور عربوں کے علاوہ بھی ایک قبیلہ آباد ہے۔ یہ قبیلہ ٹورانٹو، کیلگری، پیرس، لندن، ممبئی، قاہرہ اور کراچی جیسے شہروں میں رہنے والوں پر مشتمل قبیلہ ہے۔ یہ ہے تیل کا متلاشی قبیلہ۔ یہ قبیلہ تیل کے لیے تو۔۔۔۔۔دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے۔۔۔۔کی صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ اسے صحرا سے نہیں بلکہ اس سیال سونے سے محبت ہے جو اس صحرا کے سینے کو چیر کا نکالا جاتا ہے۔ صحرا کا باسی، کچھ ان سے خوش اور کچھ ناخوش ہیں۔ ناخوش کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے صحرا کے حسن کو گہنا دیا ہے۔صاف فضا، صاف ہوا، صاف زمین لیکن اب جابجا ریفائنریوں کا کالا دھواں اگلتی چمنیاں، زمین سے نکلے تیل ملے پانی کے تالاب۔

اب ان تالابوں پر آپ کو اکثر مردہ خانہ بدوش پرندے نطر آئیں گے۔ اپنے لمبے سفر میں جب بلندی سے پانی دیکھتے ہیں تو یہ تھکے ہارے پرندے اپنی پیاس بجھانے نیچے آ جاتے ہیں اور پھر یہ زہر آلود پانی ان کا باقی سفر آسان کر دیتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد