| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرعون کی مصر واپسی
ایک امریکی عجائب گھر نے ایک حنوط شدہ لاش (جسے عرف عام میں ممّی کہا جاتا ہے۔) مصر کے حوالے کردی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ رمسس اوّل کی ہے جو تین ہزار برس قبل مصر کا حکمراں رہ چکا ہے۔ تابوت میں رکھی ہوئی یہ لاش (ممّی) جو مصری پرچم میں لپیٹی گئی ہے، ہوائی ججہاز کے ذریعے قاہرہ کے ہوائی اڈے لے جائی گئی۔ رمسس اول کی تصور کی جانے والی اس حنوط شدہ لاش کو ’لکژور کے مندر‘ میں منتقل کئے جانے سے قبل مصر کے قومی عجائب گھر میں اس کی نمائش کی جائے گی۔ امریکی شہر اٹلانٹا کے مائیکل سی کارلوس عجائب گھر نے یہ حنوط شدہ لاش تین برس قبل بیس لاکھ ڈالر میں خریدی تھی۔ تاہم جب جانچ پڑتال کے مختلف مراحل میں یہ عندیے ملے کہ یہ حنوط شدہ لاش مصر کے قدیم حکمراں رمسس اوّل کی بھی ہوسکتی ہے تو اسے مصر کو واپس کرنے کی پیشکش کی گئی۔ یہ حنوط شدہ لاش انیسویں صدی میں شمالی امریکہ پہنچی تھی جب ایک مصری خاندان نے یہ لاش نودرات کے ایک کینیڈیئن شوقین کو فروخت کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||