’مصری دھماکوں کے پیچھے القاعدہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی حکام مصر میں جمعہ کو ہونے والے تین دھمکوں کی جن میں پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے ذمہ داری القاعدہ تنظیم پر عائد کر رہے ہیں۔ مصر میں جزیرہ نما سیناء میں واقع قصبے طابا میں ہلٹن ہوٹل کے باہر دھماکہ جمعہ کو ہونے والے تینوں دھماکوں میں سب سے شدید تھا جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابتدا میں حکام نے کہا تھا کہ دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں بعد میں انہوں نے 21 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی اور اب وہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس بتا رہے ہیں۔ اسی طرح اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے بارے میں بھی متضاد دعوی کیے جارہے تھے۔ اسرائیل وزیر دفاع نے ابتدا میں 160 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی بعد میں ایک اسرائیلی جنرل نے کہا کہ دھماکے میں 122 افراد دھماکے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق اسرئیل اور مصر سے تھا جب کہ کچھ برطانوی اور روسی شہری بھی متاثرہ افراد میں شامل ہیں۔ مصر کی سرزمین پر انیس سو ستانوے کے بعد ہونے والا یہ سب سے بڑا دھماکہ تھا۔ دھماکے کے بارے میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے تاہم اسرائیلی سکیورٹی سروس کا خیال ہے کہ یہ دھماکہ کار بم کے ذریعے کیا گیا ہے۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے ہوٹل کی کئی منزلہ عمارت تباہ ہو گئی ہے۔ دھماکے کے ایک عینی شاہد یگال واکنی نے بتایا کہ درجنوں زخمی ہوٹل کے فرش پر پڑے تھے اور ہر طرف خون ہی خون تھا اور یہ بہت خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں جوئے خانے میں تھا اور اچانک ایک شدید دھماکہ ہوا اور بائیں طرف کی دیوار زمین پر آگری۔ لوگوں نے افراتفریحی میں ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔‘ بڑے دھماکے کے تھوڑی دیر بعد قریبی قصبوں نويبع ورئیس شيطان میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مصر میں ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ان دھماکوں میں بھی چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ طابا بحیرہ احمر میں واقع اسرائیلی سیاحتی مرکز ایلات کے قریب ہی واقع ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کسی کو دھماکے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
انہوں نے اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں اس میں القاعدہ کی طرح کی کوئی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم یا القاعدہ کا کوئی گروہ شامل ہے۔‘ اسرائیل ذرائع ابلاغ کے مطابق ہوٹل کی دس منزلہ عمارت گر گئی ہے اور اس کے ملبے تلے بہت سے افراد دب گئے ہیں۔ مصر کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں دہشت گردی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ طابا کا قصبہ اسرائیل اور مصر کے درمیان اسرائیلی سیاحوں کے درمیان ایک بڑی گزر گاہ ہے۔ اسرائیلی سیاح بڑی تعداد میں اس راستے سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع تفریح مقامات اور ہوٹلوں میں چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ ہلٹن ہوٹل باہر کی دنیا سے بالکل کٹا ہوا ہے۔ اس کے شمال میں اسرائیل کی سرحد ہے اور جنوب میں مصر کی چوکی قائم ہے۔ مصر کی حکومت ہمیشہ خلیج ققبہ کے ساتھ سیناء کے مشرقی ساحل کو نسبتاً ایک محفوظ علاقہ تصور کرتی رہی ہے۔ طابا جزیرہ نما سیناء کے غیر آباد علاقے کے ایک کنارے پر واقع ہے اور اس میں سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات موجود ہیں۔
سن دو ہزار کے آخر میں اس علاقے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے آخری مذاکرات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جنوب میں رئیس شیطان کا علاقے میں لوگ کیمپنگ کرنے آتے ہیں اور یہ نوجوان اسرائیلی سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ نوبیع کے علاقے میں ہوٹل اور ریسٹورانٹ قائم ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ علاقے میں موجود بارہ سے پندرہ ہزار سیاحوں کے انخلاء کے لیے خصوصی بسیں روانہ کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل نے اپنے شہریوں کو دہشت گردی کے پیش نظر مصر نہ جانے کی ہدایت کی تھی۔ دھماکے کی جگہ اسرائیل کے امدادی ادارے کام کر رہے اور ملبے میں دبے افراد کو نکلنے میں مدد کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||